اسرائیلی میڈیا کے مطابق کئی اسرائیلی سیکیورٹی اہلکاروں نے خبردار کیا ہے کہ وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاتز کی جانب سے ترکیہ کے خلاف جارحانہ سیاسی تقاریر ایک "غیرضروری" کشیدگی کا باعث بن سکتی ہیں۔
چینل 12 نے جمعہ کو رپورٹ کیا کہ یہ انتباہ نیتن یاہو حکومت کے 27 اکتوبر کو شیڈول کنیست انتخابات سے قبل انقرہ کے خلاف بیانات میں تیز ی آنے کے بعد دیا گیا ہے۔
چینل کے مطابق کئی سیکیورٹی اہلکار یہ ترجیح دیتے ہیں کہ ترکیہ کے ساتھ کشیدگی کو وسیع پیمانے کے تصادم کی طرف نہ دھکیلا جائے۔
نیتن یاہو اور ان کی لیکود پارٹی نے انتخابی تقاریر اور مہم میں ترکیہ اور صدر رجب طیب ایردوان کو بار بار شامل کیا ہے۔
چینل 12 نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے منگل کی صبح سویرے ابو الا دھور فوجی ہوائی اڈے کے شمال مغربی شام پر حملہ کرنے کے حق میں دباؤ ڈالا تھا، جو ترکیہ کی سرحد سے تقریباً 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
اسی چیینل کے مطابق، تاہم بعض سیکیورٹی اہلکار چاہتے تھے کہ حملہ توجہ مرکز سے دور رکھا جائے اور سرکاری بیانات میں اس کا زیادہ ذکر نہ ہو تاکہ معاملات براہِ راست انقرہ کے ساتھ تصادم کی طرف نہ بڑھیں۔
اس نے کہا کہ اہلکاروں نے حملے کے بعد نیتن یاہو اور کاتز کے تیکھے عوامی بیانات کو بھی خوش آئند نہیں سمجھا۔
دریں اثنا، جمعہ کو ترکیہ، الجزائر، انڈونیشیا، اردن، لبنان، ملائشیا، موریطانیہ، پاکستان، فلسطین، قطر، سعودی عرب اور صومالیہ کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ اسرائیلی حملے شام کی "خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی یکجہتی" کی صریح خلاف ورزی تھے۔
اسی جمعہ کو ترکیہ نے اعلان کیا کہ اس نے غزہ جانے والے گلوبل سمُد فلوٹِیلا کے کارکنوں کے خلاف اسرائیلی حملے کے حوالے سے نیتن یاہو اور دیگر مدعیان کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس کی درخواست کی ہے۔
ترک سماجی رابطہ کے پلیٹ فارم NSosyal پر شائع ایک بیان میں وزیر انصاف نے کہا ہے کہ استنبول کی گیارہویں ہائی کریمنل کورٹ میں 35 مدعا علیہان کے خلاف عدالتی کارروائی جاری ہے جن میں نیتن یاہو اور افیک موسکووٹچ بھی شامل ہیں، اور ان پر لگائے گئے الزامات میں نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور اذیت رسانی شامل ہیں۔


















