اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے کہا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں نابلس کے جنوب میں واقع 'ایلی' بستی میں 763 نئے غیر قانونی آباد کار یونٹس بنانے کا ارادہ رکھتا ہے، اس اقدام سے آنے والے برسوں میں اس بستی کا حجم تین گنا بڑھنے کی توقع ہے۔
اسرائیل کے چینل 14 کے مطابق، سموٹریچ نے کہا کہ اسرائیل غیر قانونی آباد کار فارمز اور کمیونٹیز کی تعمیر جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ رہائشی یونٹس مقبوضہ مغربی کنارے میں بنجمن ریجنل کونسل کے ماتحت آنے والی غیر قانونی ایلی بستی میں تعمیر اور تیار کیے جائیں گے۔
چینل 14 نے بتایا کہ ان منصوبوں پر عمل درآمد سے آنے والے برسوں میں اس غیر قانونی بستی کا حجم تین گنا بڑھنے کی توقع ہے، جس سے وہاں ہزاروں مزید غیر قانونی آباد کاروں کی رہائش ممکن ہو سکے گی۔
وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کی حکومت نے بارہا خود کو اسرائیل کی تاریخ میں آباد کاری کی سب سے زیادہ حامی حکومتوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔
اس ماہ کے اوائل میں سموٹریچ نے کہا تھا کہ حکومت نے 2022 کے آخر میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں 104 نئی غیر قانونی بستیوں اور 160 زرعی آباد کار چوکیوں کے قیام کی منظوری دی ہے۔
فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق، مقبوضہ مشرقی یروشلم سمیت پورے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم 141 غیر قانونی بستیوں اور 224 چوکیوں میں تقریباً 750,000 غیر قانونی اسرائیلی آباد کار رہائش پذیر ہیں۔
















