سیاست
2 منٹ پڑھنے
ایران کی طرف سے امریکہ کو 'ترجیحی جنگ' سے بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کا انتباہ، ان کا سدِ باب ممکن تھا
'گیس کی قیمتوں میں اضافے اور اسٹاک مارکیٹ  کے بڑھتے ہوئے رحجان کو  ایک طرف رکھیں۔اصل مشکلات  جب امریکی قرض اور رہن کی شرحیں بڑھنا شروع ہوجائینگی ، تب شروع ہوں گی۔'، عراقچی
ایران کی طرف سے امریکہ کو 'ترجیحی جنگ' سے بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کا انتباہ، ان کا سدِ باب ممکن تھا
عراقچی کا کہنا ہے کہ جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے "مکمل طور پر بچا جا سکتا تھا۔" (تصویر: فائل) / Reuters

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کی 'اختیاری جنگ' سے اسے بڑھتے ہوئے اقتصادی نتائج کا سامنا ہوگا۔

عراقچی نے جمعہ کو ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکیوں کو تہران کے ساتھ تنازعے کی بڑھتی ہوئی لاگت برداشت کرنا پڑے گی۔

عراقچی نے ایکس پر کہا: 'امریکیوں سے کہا جا رہا ہے کہ انہیں ایران کے خلاف انتخابی جنگ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی لاگتیں برداشت کرنی ہوں گی۔'

انہوں نے لکھا ہے کہ 'گیس کی قیمتوں میں اضافے اور اسٹاک مارکیٹ  کے بڑھتے ہوئے رحجان کو  ایک طرف رکھیں۔اصل مشکلات  جب امریکی قرض اور رہن کی شرحیں بڑھنا شروع ہوجائینگی ، تب شروع ہوں گی۔'

انہوں نے امریکہ کے اندر بڑھتے ہوئے اقتصادی دباؤ کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ آٹو قرضوں کی ادائیگی میں تاخیر پہلے ہی 30 سال سے زیادہ کی بلند سطح تک پہنچ چکی ہے۔

' عراقچی نے مزید کہا کہ "ان سب سے نمٹنا ممکن تھا۔'

علاقائی کشیدگی اس کے بعد بڑھ گئی جب امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں تہران نے اسرائیل اور خلیج میں امریکہ کے حلیفوں کے خلاف جوابی کارروائیاں کیں اور آبنائے ہرمز بند ہو گئی۔

پاکستانی ثالثی کے ذریعے 8 اپریل کو جنگ بندی نافذ ہوئی، لیکن اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت آخری اور پائیدار معاہدے تک نہیں پہنچ سکی۔

بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ بندی کو غیر معینہ مدت کے لیے بڑھا دیا۔