دنیا
3 منٹ پڑھنے
امریکہ نے سعودی عرب کے ہاتھ تقریباً 2 بلین ڈالر کی اسلحہ فروخت کی منظوری دے دی
سعودی عرب کے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے تقریباً 1.96 ارب امریکی ڈالر مالیت کے اسلحہ فروخت کی منظوری دے دی گئی ہے: امریکہ وزارتِ خارجہ
امریکہ نے سعودی عرب کے ہاتھ تقریباً 2 بلین ڈالر کی اسلحہ فروخت کی منظوری دے دی
سعودی عرب کے فوجی طیارے / Reuters

امریکہ نے سعودی عرب کے ہاتھ تقریباً 1.96 ارب ڈالر مالیت کے فضائی دفاعی ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔

امریکہ وزارتِ خارجہ نے بدھ کے روز جاری کردہ بیان میں  مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی کشیدگی کے پیشِ نظر سعودی عرب کے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے تقریباً 1.96 ارب امریکی ڈالر مالیت کے اسلحے کی فروخت کی منظوری دینے کا اعلان کیا ہے۔

بیان میں وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ"یہ مجوزہ فروخت امریکہ کی خارجہ پالیسی و قومی سلامتی کے اہداف کی حمایت کرے گی کیونکہ اس سے ایسے اہم غیر نیٹو اتحادی کی سلامتی میں اضافہ ہوگا جو خلیجی خطے میں سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کے لیے ایک اہم قوت ہے۔"

اس معاہدے کا مقصد خطے میں اپنے وکیل گروہوں کے زیرِ استعمال ڈرونوں سمیت بڑھتے ہوئے فضائی خطرات کے مقابلے کے لیے سعودی فضائی دفاع کو مضبوط بنانا، مہنگے پیٹریاٹ میزائلوں پر انحصار کم کرنا اور ملکی دفاع کو مزید مستحکم بنانا ہے۔

سعودی عرب کی درخواست کردہ دفاعی اشیاء میں 20 ہزار عددجدید حساس فائر اسلحہ سسٹم (APKWS) بھی شامل ہیں۔ امریکی بحریہ کی ویب سائٹ پر ان سسٹموں کو  "قریبی فاصلے کی لڑائی میں محدود ضمنی نقصان کے ساتھ اہداف کو تباہ کرنے کا کم لاگت والا طریقہ" قرار دیا گیا ہے۔

اس اسلحہ  پیکیج میں لانچر، زیادہ دھماکہ خیز وارہیڈ، راکٹ موٹریں اور دیگر دفاعی سازوسامان بھی شامل ہوگا۔

امریکہ وزارتِ خارجہ کے مطابق اس معاہدے کا مرکزی ٹھیکیدار بی اے ای سسٹمز (BAE Systems) ہوگا، جس کا دفتر نیشوا، نیو جرسی میں واقع ہے۔

یمن میں حوثیوں کے ساتھ کشیدگی

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے پیر کے روز سعودی عرب کے جنوبی شہرابہا کے ہوائی اڈے پر میزائل حملے کے بعد سعودی عرب ایک مرتبہ پھر یمن کے ساتھ جنگ کے دہانے پر دکھائی دے رہا ہے۔

حوثیوں نے یہ  حملہ ، یمنی حکومت کے صنعاء ایئرپورٹ پر حملےکے بعد کیا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ایران کے سپریم رہنما کی آخری رسومات سے واپس آنے والے اس طیارے کا راستہ تبدیل کرنا تھا جس میں حوثی وفد سوار تھا۔ حوثیوں نے اس حملے کا ذمہ دار سعودی عرب کو ٹھہرایا تھا۔

یہ پیش رفت کا  وقت، مخالف فریقوں کے دوبارہ جنگ کی جانب بڑھنے اور بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع ہونے کے بعد، ایران کے خلاف امریکی  کارروائیوں مزید تیز ی کے حوالے سے بھی اہم ہے۔

امریکہ وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ:

"اس فروخت سے امریکہ کی دفاعی تیاریوں پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔"

سعودی عرب دنیا میں امریکی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے اور کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ امریکی فوجی سازوسامان خریدتا ہے۔

کویت کے لیے بھی منظوری

دوسری جانب واشنگٹن نے کویت کے لیے 484 ملین امریکی ڈالر مالیت کی بیرونی اسلحہ فروخت (Foreign Military Sales - FMS) کے تحت C-17 طیاروں کی مرمت، معاونت اور متعلقہ سازوسامان کی ممکنہ فروخت کی بھی منظوری دے دی ہے۔

کویت کے لیے منظور کئے گئے پیکیج میں طیاروں کے پرزے، اجزا اور لوازمات، اپ گریڈ اور معاون آلات، اسپیئر اور مرمتی پرزے، گراؤنڈ سپورٹ آلات، مواصلاتی نظام، سافٹ ویئر سپورٹ، تکنیکی دستاویزات، تربیت اور لاجسٹک خدمات شامل ہیں۔

دریافت کیجیے
فیتو کی دفاعی صنعت میں تخریب کاری، اہم منصوبے اور حالیہ 10 برسوں میں مقامی دفاعی صنعت کی پیش رفتیں
کیوبا میں ملک گیر لوڈ شیڈنگ
15 جولائی ایک اہم تاریخی موڑ ہے: یلماز
یوکرین: تجارتی کشتیوں پر روسی حملوں میں 3 افراد ہلاک ہو گئے ہیں
امریکی سینٹ نے دفاعی بل مسترد کر دیا
15 جولائی کی رات کے حالات، اقدامِ بغاوت کے اہم اور فیصلہ کُن موڑ اور ملّت کی بے مثال مزاحمت
ایران: حادثے کے بعد بحری جہاز کے 23 افراد کو بچا لیا گیا
ترکیہ نے اسکولوں کو سوشل میڈیا سے طالب علموں کی تصاویر ہٹانے کا حکم دے دیا
چین، 'باوی' طوفان کی لپیٹ میں
اسرائیل نے مغربی کنارے میں نئی غیر قانونی آبادیوں کے لئے 2.3 بلین ڈالر کا معاہدہ کر لیا
رفائیل فیتو کی تقرری،شمالی قبرص کی مذمت
غزہ کی تباہی دل کو بھاتی ہے:اسرائیلی وزیر
اسرائیلی افواج نے جنگ بندی کے باوجود لبنان میں گھروں کو آگ لگا دی
ترک خفیہ ایجنسی کا کامیاب  آپریشن، یلو بلیٹن پر مطلوب دہشتگرد گرفتار
فیتو کا خفیہ  بائی لاک مواصلاتی نظام ،مزید تفصیلات منظر عام پر