امریکہ مرکزی کمانڈ 'سینٹ کوم' نے ہفتے کے آخر میں جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "ہم نےایران کے شہر گوروک اور جزیرہ قشم میں واقع ریڈار اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
سینٹ کوم نے سوشل میڈیا ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ یہ کارروائی بشمول بین الاقوامی پانیوں میں ایک MQ-1 ڈرون کو گرانے کے ایران کی طرف سے کئے گئے "جارحانہ اقدامات" کے جواب میں کی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران کسی بھی امریکی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا اور یہ کہ جاری جنگ بندی کے باوجود، امریکہ اپنی افواج اور مفادات کے تحفظ کے لیے ایران کی "بلاجواز جارحیت" کا جواب دیتا رہے گا۔
کویت میں میزائل فضا میں روک دیئے گئے
دوسری جانب، کویت مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے اعلان کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام اس وقت دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ اس دوران اگر دھماکوں کی آوازیں سُنائی دیں تو وہ دراصل فضائی دفاعی نظام کی جانب سے میزائلوں کو فضاء میں تباہ کرنے کی آوازیں ہوں گی۔
ان واقعات کے بعد ایران کی فارس نیوز ایجنسی کی شائع کردہ خبر کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کویت میں اُس امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے "امریکی فوج نے سریک جزیرے پر حملہ شروع کیا تھا"۔
یہ بیان کویت کی جانب سے حملوں کو ناکام بنانے کے اعلان سے کچھ ہی دیر بعد جاری کیا گیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ "اگر جارحیت دہرائی گئی تو جواب مکمل طور پر مختلف ہوگا"۔










