ایرانی سرکاری میڈیا نے ہفتہ کو رپورٹ کیا کہ صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے پوپ لیو چودہ کو بھیجے گئے پیغام میں کہا ہے کہ ایران "ڈپلومیسی کے ذریعے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔
IRNAنیوز ایجنسی کے مطابق پزشکیان نے تہران کی جانب سے کیتھولک رہنما کے "ایران کے خلاف حالیہ فوجی جارحیت کے بارے میں اخلاقی اور منطقی موقف" کی تعریف بھی کی ۔
صدر نے کہا کہ ایران نے امریکی اور اسرائیلی اہداف کو "جائز دفاع کے دائرے میں" نشانہ بنایا، اور بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ "امریکہ کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف ذمہ داری سے کام لے"۔
علاقائی کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے۔ اس کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور خلیج میں امریکہ کے اتحادیوں کو نشانہ بناتے ہوئے حملے کیے، اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا۔
پاکستانی ثالثی کے ذریعے 8 اپریل کو جنگ بندی نافذ العمل ہوئی، لیکن اسلام آباد میں مذاکرات ایک دیرپا معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ بندی کو غیر معینہ مدت کے لیے بڑھا دیا۔











