ایک امریکی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے لبنانی صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیرِ اعظم ب نیتن یاہو دونوں سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان سفارتی مذاکرات کے بارے میں بات کی اور "بتدریج کشیدگی میں کمی" کے حوالے سے ایک منصوبہ پیش کیا ۔
اہلکار نے کہا امریکہ نے بطورِ اولین قدم تجویز کیا ہے کہ حزبِ اللہ اسرائیل پر تمام حملے روک دے اور بدلے میں اسرائیل بیروت میں کسی قسم کی کشیدگی یا اشتعال انگیزی سے پرہیز کرے ۔
اہلکار کے مطابق، "یہ چیز تنازعے میں بتدریج کمی اور جنگ کو مؤثر طور پر ختم کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔"
اسرائیل کو "پہلے" رکنا ہوگا
انہوں نے مزید کہا کہ عون نے اس تجویز کو آگے بڑھانے اور کسی نوعیت کا معاہدہ کرانے کی کوشش کی ہے۔
تاہم، لبنانی پارلیمانی اسپیکر نبیہ بری، جنہوں نے حزبِ اللہ کی جنگ بندی کے عہد کی "ضمانت" دینے کا دعویٰ کیا، نے بوجھ اسرائیل پر ڈالا کہ وہ "پہلے حملے کرنا بند کرے۔"
نیتن یاہو نے اتوار کو کہا تھا کہ انہوں نے حزبِ اللہ کے خلاف جنگ میں افواج کو لبنان میں مزید پیش قدمی کرنے کا حکم دیا ہے، حالانکہ چھ ہفتے سے زیادہ پہلے ایک جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔
فوج نے اتوار کے روز بتایا کہ تازہ پیش قدمی میں اسرائیلی افواج نے نو سو سالہ بوفورٹ قلعہ اور جنوبی لبنان میں ایک حکمتِ عملی کی چوٹی پر قبضہ کر لیا، یہ ایک ایسے دن کے روز ہوا جب حزبِ اللہ کی شمالی اسرائیل کی طرف شدید فائرنگ کی گئی تھی، جس کے باعث اسکول بند اور کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔
امریکی اہلکار نے کہا کہ امریکہ یہ توقع نہیں رکھتا کہ اسرائیل اپنے شہریوں پر حزبِ اللہ کی جانب سے جاری حملوں کو برداشت کرے گا۔
اسرائیلی حملوں کی وجہ سے 2 مارچ سے اب تک 1.2 ملین سے زائد لبنانی بے گھر ہو چکے ہیں۔
اس کے بعد سے اسرائیلی حملوں نے لبنان کے جنوب، مشرق اور دارالحکومت بیروت کو نشانہ بنایا، لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق 3,200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسی مدت میں اس کے 23 فوجی اور چار عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔










