جرمنی میں روسی سفارتخانے نے برلن کے لیپزگ ہوائی اڈے پر ڈرون حملے کی کوشش سے متعلقہ الزامات کو مسترد کیا اور انہیں "بے بنیاد، مضحکہ خیز اور غیر منطقی" قرار دیا ہے۔
سفارتخانے نے منگل کے روز ٹیلی گرام سے جاری کردہ بیان میں برلن کو روس۔جرمنی تعاون کے فریم ورک کی منظم خلاف ورزی کرنے کا قصوروار ٹھہرایا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جرمنی میں روسی سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا اور انہیں 5 اگست کے دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون کے واقعے میں روس کے ملوث ہونے کے دعوے سے متعلق احتجاجی مراسلہ دیا گیا ہے۔
سفارتخانے کے مطابق جرمن حکام نے بغیر کسی ثبوت کے روس پر الزام عائد کیا اور برلن نے اس واقعے کو ماسکو کی جانب سے "بڑھتے ہوئے ہائبرڈ حملوں" کا حصہ قرار دے کر پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔
ان پابندیوں میں جرمنی کے شہر بون میں روسی قونصل خانے کو 18 ستمبر تک بند کرنا اور 2011 میں طے پانے والے اور برلن میں واقع روسی ہاوس سمیت ثقافتی و اطلاعاتی مراکز سے متعلقہ روس۔جرمنی معاہدے کو ختم کرنا شامل ہے ۔
روسی سفیر نے ان الزامات کو مسترد کیا، پابندیوں کو دونوں ممالک کے تعلقات میں "بے مثال کشیدگی" قرار دیا اور خبردار کیا ہے کہ ان اقدامات سے برآمد ہونے والے نتائج کی ذمہ داری مکمل طور پرجرمنی کو اٹھانا پڑے گی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ "سفیر نے زور دیا ہے کہ لیپزگ ہوائی اڈے پر عجلت میں تیار کیا گیا یہ اشتعال انگیز واقعہ صرف کییف حکومت، یورپی سیاسی طبقے کے عسکریت پسند دھڑے اور یوکرین جنگ کو ہوا دینے میں دلچسپی رکھنے والے فوجی و صنعتی کمپلیکسوں کے سربراہان کے مفادات پورے کر رہا ہے "۔
دوسری جانب روس وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا نے کہا ہےکہ جرمنی کے، روسی ہاؤس اور روسی قونصل خانے کو بند کرنے کے، فیصلے کا " مناسب جواب" دیا جائے گا۔
روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس (TASS) سے گفتگو کرتے ہوئے زاخارووا نے برلن کو، دوطرفہ تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کرنے کے لیے،"من گھڑت جواز" استعمال کرنے کا قصوروار ٹھہرایا اور کہا ہے کہ جرمنی نے روس پر عائد کردہ الزامات کی حمایت میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا۔
















