کیف اور روسی حکام کے مطابق، یوکرینی ڈرونز نے اتوار کے روز جنوبی روس میں ایک آئل ڈپو اور فرنٹ لائن سے سینکڑوں کلومیٹر دور واقع ایک پمپنگ اسٹیشن کو نشانہ بنایا۔
جنگ کے پانچویں سال میں داخل ہونے پر کیف نے ماسکو کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں میں تیزی لائی ہے، اور حالیہ ہفتوں میں اورال جتنے دور دراز اہداف کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
یوکرینی فوج کا کہنا ہے کہ ڈرونز نے روس کے کیروف خطے میں ایک "بڑی آئل پائپ لائن کے ڈسپیچ اسٹیشن" اور مقبوضہ یوکرین کے قریب روس کے روستوف خطے میں ایک آئل ڈپو کو نشانہ بنایا۔
یوکرینی فوج کے مطابق یہ پائپ لائن سائبیریا سے مغربی روس اور بیلاروس تک تیل منتقل کرتی ہے۔
کیروف خطے کے گورنر الیگزینڈر سوکولوف نے صرف اتنا بتایا کہ یوکرینی ڈرونز نے ایک "تنصیب" کو نشانہ بنایا جس سے وہاں آگ لگ گئی، تاہم انہوں نے کسی جانی نقصان کا دعویٰ نہیں کیا اور لوگوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی۔
کیف کی جانب سے مسلسل نشانہ بننے والے جنوبی روستوف خطے کے قصبے ماتویوف-کرگن میں مقامی حکام نے ایک آئل ڈپو پر ڈرون حملے کے بعد لگنے والی شدید آگ کے باعث ہنگامی حالت (اسٹیٹ آف ایمرجنسی) نافذ کر دی ہے۔
قصبے کی سربراہ دینا البورووا نے سیاہ دھوئیں کے بادلوں کی تصاویر جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آگ 3,600 مربع میٹر کے رقبے پر پھیل گئی ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس آگ سے رہائشی مکانات اور چند دکانیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
دوسری طرف یوکرین میں، حکام ڈنیپرو میں ایک گودام پر روسی حملے کے نقصانات کو صاف کرنے میں مصروف ہیں، جو کہ یوکرین کی مشہور پوسٹل کمپنی 'نووا پوشتا' کی ملکیت ہے۔
یوکرین کے اندر اور باہر بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی نجی کورئیر کمپنی 'نووا پوشتا' نے بتایا کہ ڈنیپرو میں ان کی برانچ کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں "عمارت مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئی"۔
کمپنی نے مزید بتایا کہ اس واقعے میں کوئی بھی ملازم زخمی نہیں ہوا۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے انٹرنیٹ پر آگ لگنے کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھاکہ "ان تمام حملوں کو روکنا ہوگا۔"
انہوں نے کہا کہ اس کے لیے صرف ہماری دفاع کی کافی مدد اور روس پر مسلسل دباؤ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔
اس ہفتے کے اوائل میں، زیلنسکی نے امریکہ پر زور دیا تھا کہ وہ روسی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم کے لیے مزید گولہ بارود فراہم کرے۔










