نیپال کے وزیرِ اعظم نے جمعرات کو دیگر عالمی رہنماؤں سے سختی سے کہا کہ ملک میں کم از کم 1,400 افراد کے ہلاک اور تاحال متعدد افراد کے لاپتہ ہونے والے مہلک سیلاب نے دنیا کو حقیقت کی یاد دہانی کرائی ہے کہ موسمیاتی بحران ان لوگوں کو مسلسل نقصان پہنچا رہا ہے جو اب مدد کے محتاج ہیں۔
نیپالی وزیرِ اعظم بالیندر شاہ نے جمعرات کی شب اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہا کہ"اگست کا سانحہ"صرف ایک مقامی المیہ نہیں تھا۔ یہ دنیا کے لیے ایک وارننگ تھی۔ اور میں آج آپ سے سوال کرتا ہوں: کیا آپ نے واقعی اس وارننگ پر کان دھرے ہیں؟"
تقریباً تین سال پہلے، جب ہم اپنے ماؤنٹ ایورسٹ کے پاس کھڑے تھے، تواقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے انسانوں کے پاگل پن اور قریب آنے والی موسمی آفات کے بارے میں خبردار کیا تھا۔
شاہ نے کہا کہ" بامِ دنیا سے اٹھنے والی یہ پکار مطلوبہ حد تک نہیں سنی گئی" ہم نیپال میں اس پکار کو سن چکے ہیں۔ ہمارے طبقے نے اور دنیا بھر کے سائنسدانوں نے اسے سنا اور ثبوت کے ساتھ دوہرایا۔ مگر ہم سیاسی رہنما ان انتباہات کو اس رفتار اور پیمانے پر کارروائی میں تبدیل کرنے میں غفلت برت رہے ہیں جو کمزور لوگوں کو درکار ہے۔"
انہوں نے کہا کہ "گلول وارمنگ کے المناک نتائج دنیا کو بتاتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی سرحدوں کو نہیں مانتی۔ گلیشیئر اور سیلاب ڈاک ٹکٹ یا پاسپورٹ کے ساتھ سفر نہیں کرتے۔"
ایک انسان دوست کارکن اور سابق مس نیپال انٹرنیشنل سبکشا کھڑکانے ایک آن لائن انٹرویو میں شاہ کی تقریر کی تعریف کی اور اسی انتباہ پر اپنے تبصرے میں کہا کہ"اس بار ہدف نیپال رہا، مگر یہ ہدف کوئی اور مقام بھی ہو سکتا تھا۔ یہ اسوقت ہماری کہانی ہے، اور کل یہ کسی اور کی ہو سکتی ہے۔ لہٰذا اب قدم اٹھانے کا وقت ہے۔"
شاہ نے امداد کے لیے کسی مخصوص رقم کا مطالبہ نہیں کیا، مگر انہوں نے بین الاقوامی مالی امدادی نظام کو ناکافی اور بیش از حد بیوروکریٹک قرار دیا۔ اس میں وہ 'نقصان اور معاوضے' فنڈ بھی شامل ہے جس پر چند سال قبل غریب ممالک کے حق میں اتفاق کیا گیا تھا جو خود اپنی وجہ سے نہیں ہونے والی موسمی آفات سے متاثر ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا "موسمیاتی مالیات کو ایک اور بیوروکریٹک بھول بھلیاں نہیں بننا چاہیے جس میں کمزور ممالک برسوں گزارنے پر مجبور ہوں،جب گھر جل رہا ہوتا ہے تو ہم کسی خاندان سے پچاس فارم مکمل کرنے کو نہیں کہتے۔ ہم عمل کرتے ہیں۔ یہی موسمی انصاف ہے۔"
انہوں نے جنرل اسمبلی پر زور دیا کہ ریلیف، بحالی، ازسرِنو تعمیر — جو روایتی بین الاقوامی امدادی تصورات ہیں — پر عمل کیا جائے، مگر ساتھ ہی "ذمہ داری، معاوضہ، مزاحمت" پر بھی توجہ دی جائے۔
یہ 'کوئی انفرادی واقعہ' نہیں تھا
امریکہ نے اس ہفتے سیلاب کی بحالی کے لیے نیپال کو 31 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا، جس سے امریکہ کی مجموعی مالی مدد 36 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ان کی ضرورت کے ایک فیصد سے بھی کم رقم ہے۔
نیپالی وزیرِ خارجہ ششِر خانل نے بدھ کو اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی اجلاس میں کہا تھاکہ"بتدائی جائزوں کے مطابق محض حالیہ آفت سے نیپال کو 5 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے، جو ہماری جی ڈی پی کا تقریباً 15 فیصد اور سالانہ بجٹ کا ایک تہائی ہے،لہٰذا نیپال کے لیے یہ آفت محض انسانی ہنگامی صورتحال نہیں ہے۔ یہ ترقیاتی ہنگامی صورتحال ہے جو برسوں کی کامیابیوں کو ختم کر رہی ہے۔ یہ انصاف کا بحران ہے جو عالمی موسمی کارروائیوں کی نابرابریوں کو بے نقاب کرتا ہے اور ایک وجودی بحران ہے جو ہماریے معاشروں اور ہمارے مستقبل کی بقا کو نشانہ بنا رہا ہے۔"
خانل نے کہا"نیپال میں جو ہوا وہ کوئی انفرادی واقعہ نہیں بلکہ بہت سے کمزور ممالک کے لیے آنی والی صورتِ حال کا پیشِ منظر ہے۔"
سابق امریکی نائب صدر ایل گور نے ایک انٹرویو میں کہا کہ نیپال کی آفت بتاتی ہے کہ موسمیاتی بحران 'بہت تیزی سے' بگڑ رہا ہے اور یہ ایشیا کےعظیم دریاؤں میں گلیشیئرز کے پگھلنے کے مسائل کی پیشگوئی کرتا ہے، جس سے 2 ارب لوگوں کو پانی کی فراہمی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

















