بھارت نے اپنی پہلی ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرین کا آغاز کر دیا
اس آغاز کے ساتھ، بھارت ایسے ممالک میں شامل ہو گیا ہے جن میں جرمنی، جاپان، چین اورامریکہ شامل ہیں جو ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرینوں کا تجربہ کر رہے ہیں یا انہیں چلا رہے ہیں۔
بھارت نے اپنی  پہلی ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرین کا آغاز کر دیا
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی جمعہ، 17 جولائی 2026 کو ہریانہ کے جند میں بھارت کی پہلی مقامی طور پر تیار کردہ ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کرتے ہوئے۔ / AP

بھارت نے اپنی پہلی ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرین    کے سفر شروع کر دیے ہیں ،  یہ ان  چند ملکوں کے ان گروہوں میں شامل ہو گیا ہے جو ریلوے نقل و حمل کو کاربن سے پاک کرنے اور فوسل ایندھن پر انحصار کم کرنے کی کوششوں کے تحت اس ٹیکنالوجی کا تجربہ کر رہے ہیں۔

یہ منصوبہ دنیا کے سب سے بڑے ریل نیٹ ورکس میں سے ایک کو جدید بنانے اور کاربن کے اخراج کو کم کرنے کی ایک وسیع تر کوشش کا حصہ ہے۔

دس بوگیوں  پر مشتمل ٹرین بھارت کے شمالی ریاست ہریانہ کے جنڈ اور سونپت کے درمیان 89 کلومیٹر (55 میل) طویل راستے پر چلتی ہے، اور یہ 1,200 کلو واٹ کے ہائیڈروجن فیول سیل پروپلشن سسٹم سے چلائی جاتی ہے۔

عہدیداروں نے اس نظام کو ٹرین کے لیے دنیا کا سب سے طاقتور سسٹم قرار دیا۔

ہائیڈروجن ٹرینیں فیول سیلز کا استعمال کر کے ہائیڈروجن اور آکسیجن کو ملا کر بجلی پیدا کرتی ہیں، اور صرف پانی اور بخارات خارج کرتی ہیں۔

وزیراعظم نریندرا مودی، جنہوں نے افتتاحی سفر کا پرچم لہرا کر آغاز کیا، نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا: "یہ خودمختار بھارت اور پائیدار ترقی کی سمت میں ایک بہت اہم دن ہے۔"

وزارت  ریلوےنے کہا ہے کہ یہ ٹرین 'مکمل طور پر بھارت میں تیار کی گئی' ہے، اگرچہ سینئر عہدیداروں نے رپورٹرز کو بتایا کہ فیول سیلز سمیت کچھ اہم اجزاء درآمد کیے گئے تھے۔

وزارت نے'ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرینوں کے آپریشنز 'کے لیے جنڈ میں ملک کے سب سے بڑی ریلوے ہائیڈروجن اسٹوریج اور ری فیولنگ تنصیب  کہ جس کی گنجائش تقریباً 3,000 کلوگرام ہے،  کا افتتاح بھی کیا۔

ایک سینئر ریلوے اہلکار کے مطابق اس پائلٹ منصوبے  پر تقریباً 12 ملین ڈالر کی لاگت آئی ہے، جنہوں نے تسلیم کیا کہ یہ ایک مماثل روایتی سروس کے مقابلے میں نمایاں طور پر مہنگا تھا۔

تاہم، انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے پختہ ہونے کے ساتھ لاگت میں کمی متوقع ہے۔

اس آغاز کے ساتھ، بھارت ایسے ممالک میں شامل ہو گیا ہے جن میں جرمنی، جاپان، چین اورامریکہ شامل ہیں جو ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرینوں کا تجربہ کر رہے ہیں یا انہیں چلا رہے ہیں۔

اہم تبدیلی

بھارتی ریلوے نے ایک بڑا تغیر دیکھا ہے جب سے پہلی  بھاپ سے چلنے  والی مسافر ٹرین 1853 میں ممبئی سے روانہ ہوئی۔

حالیہ برسوں میں نئی دہلی نے انفراسٹرکچر کو جدید بنانے، حفاظت بہتر کرنے اور صلاحیت بڑھانے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پچھلے سال اس وسیع نیٹ ورک نے 7.41 بلین مسافر اور 1.67 بلین ٹن کارگو نقل و حمل کی۔

بھارت نے  مقامی طور پر ڈیزائن کردہ وندے بھارت ٹرینیں بھی متعارف کروائیں، جو زیادہ سے زیادہ 180 کلومیٹر (112 میل) فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچ سکتی ہیں۔

اسی دوران، ملک اپنی پہلی ہائی اسپیڈ ریل لائن جاپانی شنکنسن ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے تعمیر کر رہا ہے۔

عہدیدار توقع کرتے ہیں کہ بلیٹ ٹرین، جو 320 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کام کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے، اپنے پہلے سیکشن پر 2027 میں خدمات شروع کر دے گی۔

 

دریافت کیجیے
فرانس میں شدید طوفان، 13,000 گھر بجلی سے محروم
یوکرین: روسی حملوں میں دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں
میانمار: روہینگیا مہاجرین کی کشتیاں الٹ گئیں، 500 سے زیادہ افراد ہلاک
امریکی فوج کیوبا کے خلاف ممکنہ کارروائی کے لیے اختیارات پر غور کر رہی ہے: رپورٹ
امریکہ نے سعودی عرب کے ہاتھ تقریباً 2 بلین ڈالر کی اسلحہ فروخت کی منظوری دے دی
سیمی فائنل میں ارجنٹائن کی کامیابی،فائنل اسپین کے ساتھ کھیلے گا
آسٹریلیا نےڈیٹا سینٹروں اور کاپی رائٹ سے متعلقہ اے آئی قوانین کا اعلان کر دیا
ملائیشیا میں کسی بھی اسرائیلی کو پایا گیا تو فوراً ملک بدر کر دیا جائے گا: انور ابراہیم
فیتو کی دفاعی صنعت میں تخریب کاری، اہم منصوبے اور حالیہ 10 برسوں میں مقامی دفاعی صنعت کی پیش رفتیں
کیوبا میں ملک گیر لوڈ شیڈنگ
15 جولائی ایک اہم تاریخی موڑ ہے: یلماز
یوکرین: تجارتی کشتیوں پر روسی حملوں میں 3 افراد ہلاک ہو گئے ہیں
امریکی سینٹ نے دفاعی بل مسترد کر دیا
15 جولائی کی رات کے حالات، اقدامِ بغاوت کے اہم اور فیصلہ کُن موڑ اور ملّت کی بے مثال مزاحمت
ایران: حادثے کے بعد بحری جہاز کے 23 افراد کو بچا لیا گیا