اسرائیلی فوج نے قابض مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں نافذ کیا گیا محاصرے کو پانچویں روز بھی جاری رکھا، جبکہ 4 ہزار 969 فلسطینیوں کو زبردستی بے گھر کر دیا گیا۔
الخلیل بلد یہ نے بتایا کہ شہر کے عین دیربہا اور جیلدہ علاقوں میں محاصرے کی وجہ سے گھر چھوڑنے والے فلسطینیوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے ، ان کی صورتحال کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
بیان کے مطابق، اسرائیلی فوج کے پانچویں روز محاصرے کے تحت شہر میں زبردستی گھر چھوڑنے والے خاندانوں کی تعداد 780 تک اور بے گھر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 4,969 ہو گئی ہے۔
جبری بے گھر کیے گئے افراد میں 336 شیرخوار بچے، 441 بزرگ، 216 حاملہ یا زچہ، 44 معذور اور 312 دائمی مریض شامل ہیں۔
چھاپے اور تلاشی جاری
مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق، اسرائیلی فوج کی اضافی قوتوں نے فوجی گاڑیوں کے ہمراہ رات گئےالخلیل کے بعض محلے میں چھاپے مارے اور فلسطینیوں کے گھروں کی تلاشی لی۔
علاوہ ازیں، شہر کے داخلی راستوں کے ساتھ ساتھ قصبوں اور پناہ گزین کیمپوں کے داخلی راستے بھی اسرائیلی فوجیوں نے بند کر رکھے ہیں اور فلسطینیوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
جیلدہ چوک کے نزدیک قائم فوجی چوکیوں پر فلسطینیوں کو روکا جاتا ہے، ان کی تلاشی لی جاتی ہے اور تلاشی کے دوران ان کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے۔
مزید یہ کہ محاصرے والے علاقے عین دیر بہا میں اسرائیلی فوج کو اضافی دستوں سے تقویت دی گئی، اور اسرائیلی فوجیوں نے بعض فلسطینی عمارتوں میں ٹھہر کر انہیں فوجی ہیڈکوارٹرز میں تبدیل کر دیا۔
فلسطینی اسیران سوسائٹی نے کل اپنے بیان میں کہا تھا کہ محاصرے کے دوران کیے گئے چھاپوں میں 85 فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا۔
الخلیل میں حملہ اور محاصرے تک پہنچنے والے واقعات
الخلیل میں فوجی حملہ اور محاصرہ اس وقت شروع ہوا جب شہر کے شمال مغربی داخلی راستے کے علاقے فرش الحوا میں 23 اکتوبر کو ایک اسرائیلی چیک پوائنٹ پر ایک مسلح حملہ ہوا۔
اس حملے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 3 زخمی ہوئے۔ حملہ کرنے والے 2 فلسطینی بھی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مارے گئے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ الخلیل کے خلاف یہ حملہ اور محاصرہ چند روز تک جاری رہ سکتا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹس نے محاصرے کے آغاز کے دو دن بعد کہا کہ الخلیل سے گھر چھوڑنے والے تقریباً دو ہزار فلسطینی اس وقت تک اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکیں گے جب تک اسرائیل شہر میں وہ عمارتیں ختم نہ کر دے جنہیں وہ حماس کا 'انفراسٹرکچر' قرار دیتا ہے۔
وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے حملے کے بعد قابض مغربی کنارے میں 1967 کی جنگ کے بعد کے ایک وسیع ترین پیمانے کے حملے کی دھمکی دی ہے۔
الخلیل کے واقعات اکتوبر 2023 میں غزہ پٹی پر حملوں کے آغاز کے بعد سے قابض مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے فوجی چھاپوں، فلسطینیوں کی ہلاکتوں اور گرفتاریوں، گھروں اور کاروبار کی تباہی، زرعی اراضی کو پہنچنے والے نقصان اور جبری بے دخلی کی دیگر کارروائیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔

















