پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا میں پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر مسلح حملے میں 2 پولیس اہلکار جاں بحق اور 1 زخمی ہو گیا ہے۔
مقامی پولیس حکام نے بتایا کہ یہ مسلح حملہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مہمند میں کیا گیا۔
حکام نے واضح کیا کہ پولیس اہلکار اس وقت حملے کا نشانہ بنے جب وہ علاقے میں ویکسینیشن ٹیموں کی سیکیورٹی کے لیے موجود تھے۔ اس حملے کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار جاں بحق اور 1 زخمی ہو گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
پاکستان میں مسلح حملے خاص طور پر افغانستان کی سرحد سے متصل صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مرکوز ہیں۔
دونوں صوبوں میں پشتون اور بلوچ نسلی گروہوں کے حقوق کے تحفظ کا دعویٰ کرنے والے مسلح گروہ، پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر حملے کرتے ہیں۔
اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ تحریک طالبان پاکستان نے افغانستان میں پناہ لے رکھی ہے اور وہ وہیں سے اپنے حملوں کو منظم کرتی ہے، جبکہ افغان انتظامیہ ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔
دوسری طرف، بلوچستان میں "بلوچستان لبریشن آرمی" کے حملے نمایاں ہیں۔
بی ایل اے بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی اور اس خطے پر بلوچ عوام کی حکومت چاہتی ہے۔





















