ترکیہ
5 منٹ پڑھنے
ترکیہ، یومِ جمہوریہ کی 103 ویں سالگرہ منا رہا ہے
آج جموریہ ترکیہ اپنے قیام کی 103 ویں سالگرہ منا رہا ہے
ترکیہ، یومِ جمہوریہ کی 103 ویں سالگرہ منا رہا ہے
Türkiye Büyük Millet Meclisi, 29 Ekim 1923’te Cumhuriyeti ilan etti.

قومی جدوجہد کی فتح پر منتج ہونے کے بعد، ترک قوم کی آزادی کی جدوجہد کو ایک نئی ریاست کے قیام کے ذریعے نقطۂ عروج تک پہنچانے والے سفرِ قیامِ جمہوریہ میں '28 اکتوبر 1923ء کی شب' تاریخ کے اہم ترین موڑوں  میں سے ایک ثابت ہوئی۔

انقرہ کے چانقایہ صدارتی محل میں ایک عشائیے کے دوران سامنے آنے والا یہ فیصلہ ترکیہ کے مستقبل کی تشکیل کا سبب بنا۔ اگلے روز اسے ترکیہ کی قومی اسمبلی  میں منظور کر لیا گیا، جس کے نتیجے میں نئی ترک ریاست کے نظامِ حکومت کا باضابطہ تعین ہوا۔

جمہوریہ کے قیام تک پہنچنے والا سفر مصطفیٰ کمال اتاترک کے 19 مئی 1919ء کو سامسون پہنچنے کے ساتھ شروع ہونے والے قومی جدوجہد کے برسوں میں تشکیل پایا۔

اتاترک نے ارضِ روم کانگریس کے دوران مظہر مفتی کانسو سے کہا تھا کہ فتح کے بعد قائم ہونے والی حکومت کی شکل جمہوری ہوگی۔ تاہم، اُس دور کے حالات کے پیشِ نظر انہوں نے کچھ عرصے تک اس خیال کو عوام کے سامنے ظاہر نہیں کیا۔

23 اپریل 1920ء کو ترکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کے قیام کے ساتھ ہی قومی حاکمیت پر مبنی نئے نظامِ حکومت کی بنیادیں رکھ دی گئیں۔

24 جولائی 1923ء کو معاہدۂ لوزان پر دستخط کے ذریعے ترکیہ کی آزادی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے کے بعد، 13 اکتوبر کو انقرہ کو دارالحکومت قرار دیا جانا نئی ریاست کے سیاسی اور انتظامی ڈھانچے کی تشکیل میں ایک اہم قدم ثابت ہوا۔

تاہم، میدانِ جنگ میں فتوحات کے بعد قائم ہونے والی نئی ریاست کے نظامِ حکومت کا واضح تعین کرنا اور سربراہِ مملکت کے مسئلے کو حل کرنا ضروری تھا۔

27 اکتوبر 1923ء کو وزراء کونسل کے استعفے اور نئی حکومت تشکیل دینے میں ناکامی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی بحران نے ریاستی نظامِ حکومت میں نئی اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

چانقایہ میں تاریخ ساز شام

جب 28 اکتوبر 1923ء کی تاریخ آئی تو انقرہ ترکیہ کی سیاسی تاریخ کے اہم ترین فیصلوں میں سے ایک کا گواہ بننے کے لیے تیار تھا۔

مصطفیٰ کمال پاشا نے اس شام اپنے قریبی رفقائے کار کو چانقایہ صدارتی محل میں عشائیے پر مدعو کیا۔

لطیفہ خانم کے زیرِ  اہتمام سے سجائی گئی میز پر اسماعیل پاشا، کاظم پاشا، فتحی بے، کمال الدین سامی پاشا، خالد پاشا، فواد بے اور روشن اشرف بے سمیت متعدد اہم شخصیات جمع ہوئیں۔

چانقایہ صدارتی محل میں سامنے آنے والا فیصلہ اگلے روز پارلیمان میں پیش کی جانے والی آئینی ترمیم کی بنیاد بنا۔

جمہوریہ کا اعلان رات 8 بج کر 30 منٹ پر کیا گیا

29 اکتوبر 1923ء، بروز پیر، ترکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی میں تاریخی اجلاس منعقد ہوا، جس نے ترک قوم کے مستقبل کے لیے ایک نئے باب کا آغاز کیا۔

اناطولیہ نیوز ایجنسی کے محفوظ ریکارڈ میں موجود اُس دور کے فرانسیسی زبان کے خبرناموں کے مطابق، پارلیمان کا اجلاس شام 6 بجے شروع ہوا۔

آئینی کمیٹی کی جانب سے تیار کردہ اور جمہوریہ کے اعلان سے متعلق تجویز کو بحث کے لیے پارلیمان کے ایجنڈے میں شامل کیا گیا۔

بحث کے دوران یونس نادی بے نے جمہوریہ کے اعلان کی ضرورت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا، جبکہ دیگر ارکانِ پارلیمان نے بھی نظامِ حکومت کی نئی شکل کے بارے میں اپنی آرا پیش کیں۔

بحث کے بعد 1921ء کے آئین میں ترمیم کی گئی اور یہ شق منظور کر لی گئی کہ ’’ترکیہ کی ریاست کا نظامِ حکومت جمہوریہ ہے۔‘‘

رات 8 بج کر 30 منٹ پر اجلاس میں شریک تمام 158 ارکانِ پارلیمان کے متفقہ ووٹوں سے جمہوریہ کا اعلان کر دیا گیا۔

پارلیمان میں کیے گئے اس تاریخی فیصلے کا استقبال ’’جمہوریہ زندہ باد‘‘ کے نعروں اور تالیوں سے کیا گیا۔

اس طرح قومی حاکمیت کا وہ تصور، جس کی بنیادیں 23 اپریل 1920ء کو گرینڈ نیشنل اسمبلی کے قیام کے ساتھ رکھی گئی تھیں، ریاست کے نظامِ حکومت میں بھی واضح طور پر نافذ ہو گیا۔

’’جمہوریہ ترکیہ خوش حال، کامیاب اور فاتح ہوگی‘‘

جمہوریہ کے اعلان کے بعد اسی روز صدرِ مملکت کا انتخاب عمل میں آیا۔

خفیہ رائے شماری میں تمام 158 ارکانِ پارلیمان کے ووٹ حاصل کرکے غازی مصطفیٰ کمال پاشا جمہوریہ ترکیہ کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔

صدرِ مملکت کی حیثیت سے پہلی مرتبہ پارلیمان کے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے اتاترک نے ترک قوم کی آزادی کی جدوجہد میں دکھائے گئے عزم و استقلال کو اجاگر کیا اور نئی ریاست کے مستقبل کے بارے میں اپنے یقین کا اظہار کیا۔

اتاترک نے اپنی تاریخی تقریر کا اختتام ان الفاظ پر کیا:

’’جمہوریہ ترکیہ خوش حال، کامیاب اور فاتح ہوگی۔‘‘

جمہوریہ کے اعلان کے ساتھ ہی سربراہِ مملکت کا مسئلہ حل ہو گیا، جبکہ حکومت کی تشکیل کا طریقۂ کار بھی نئے سرے سے مرتب کیا گیا۔ اسمت پاشا کو پہلی حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی گئی، جبکہ فتحی بے کو قومی اسمبلی کا صدر منتخب کیا گیا۔

جمہوریہ کے اعلان کا جشن 29 اکتوبر کی شب اور اگلے روز شہریوں نے منایا۔ 26 اکتوبر 1924ء کو جاری کیے گئے ایک فرمان کے ذریعے فیصلہ کیا گیا کہ جمہوریہ کے اعلان کی سالگرہ 101 توپوں کی سلامی اور مختلف تقریبات کے ساتھ منائی جائے گی۔

19 اپریل 1925ء کو قانون کی منظوری کے بعد، نئی ترک ریاست نے مصطفیٰ کمال اتاترک کی قیادت میں جدیدیت اور جمہوریت کی جانب اپنا سفر جاری رکھا۔ اسی کے نتیجے میں 29 اکتوبر کو 1925ء سے ’’قومی تہوار‘‘ کے طور پر منایا جانے لگا۔

دریافت کیجیے
ترکیہ جینڈرمیری فورس نے 101 تمغے جیت لئے
نیتن یاہو کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے:ایویگادور لیبرمین
عرب اتحاد، یمن میں حوثیوں کے 5 سرنگ نما گوداموں، 6 لانچنگ پیڈ اور 1میزائل ڈپو کو نشانہ بنایا گیا ہے
روس اور یوکرین سے رات بھر کے حملوں میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات
برازیل: لولا دا سلوا نے میدان مار لیا
ترکیہ۔آرمینیا سرحد پر واقع آنی پُل کا ٹینڈر منظور ہو گیا
روس: یوکرین کے لاجسٹک مراکز اور مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے
ازبکستان نے ایرانی سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کر لیا
اسرائیل نے ’’نسلی صفائی‘‘ پالیسی کو الخلیل تک پھیلا دیا ہے
اٹلی اور اسپین میں احتجاجی مظاہرے، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں
نائیجیریا: مسلح حملہ، 20 افراد ہلاک
اسرائیل میں ہزاروں افراد کی شرکت سے احتجاجی مظاہرہ
ایران پر حملہ 'کل' ہی ہو سکتا ہے: ٹرمپ
امریکہ: مسلّح حملے میں 12 افراد زخمی ہو گئے
ایردوان: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ اور جامع بنایا جانا چاہیے