عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ جمہوریہ کانگو (DRC) میں ایبولا کی مہلک وبا کا خطرہ اس وقت قومی اور علاقائی سطح پر زیادہ ہےلیکن عالمی سطح پر کم ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس وائرس کی شروعات کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں، لیکن مشرقی جمہوریہ کانگو کی صورتحال کے پھیلاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ وبائی مرض شاید چند ماہ قبل شروع ہوا تھا۔
تاہم، اقوام متحدہ کی صحت کی ایجنسی کی ہنگامی کمیٹی نے کہا کہ یہ بیماری فی الحال عالمی وبا کی ہنگامی حد پر پوری نہیں اترتی۔
تنظیم کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ادارہ اس وبا کے خطرے کا جائزہ قومی اور علاقائی سطح پر زیادہ اور عالمی سطح پر کم کے طور پر کرتا ہے۔
جنیوا کے ہیڈ کوارٹر میں بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اب تک جمہوریہ کانگو کے مشرقی صوبوں اتوری (Ituri) اور شمالی کیوو (North Kivu) میں 51 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یوگنڈا نے بھی دارالحکومت کمپالا میں دو تصدیق شدہ کیسز کی اطلاع دی ہے، جن میں ایک ہلاکت بھی شامل ہے، جبکہ جمہوریہ کانگو میں کام کرنے والے ایک امریکی شہری کا ٹیسٹ بھی مثبت آیا ہے جسے جرمنی منتقل کر دیا گیا ہے۔
ٹیڈروس نے کہا کہ متعدد ایسے عوامل ہیں جو وائرس کے مزید پھیلاؤ اور مزید ہلاکتوں کے امکانات کے حوالے سے سنگین تشویش کا باعث بنتے ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ "تصدیق شدہ کیسز کے علاوہ لگ بھگ 600 مشتبہ کیسز اور 139 مشتبہ ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں۔"
"ہم توقع کرتے ہیں کہ ان نمبروں میں اضافہ جاری رہے گا، کیونکہ یہ وائرس وبائی لہر کی تشخیص ہونے سے پہلے ہی ایک طویل عرصے تک گردش کر رہا تھا۔
اتوار کے روز، ٹیڈروس نے اس صورتحال کو بین الاقوامی تشویش کی حامل عوامی صحت کی ایمرجنسی (PHEIC) قرار دیا تھاجو کہ قانونی طور پر پابند بین الاقوامی صحت کے ضوابط کے تحت خطرے کی دوسری سب سے بڑی سطح ہےجس سے دنیا بھر کے ممالک میں ہنگامی ردعمل شروع ہو جاتا ہے۔
اس وبائی لہر کا جائزہ لینے کے لیے بنائی گئی ڈبلیو ایچ او کی ہنگامی کمیٹی کا اجلاس منگل کو ہوا تھا۔
جنوبی افریقہ سے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، کمیٹی کی چیئرپرسن لوسیل بلومبرگ نے کہا کہ "موجودہ صورتحال اور بین الاقوامی تشویش کی حامل عوامی صحت کی ایمرجنسی کے معیار پورے ہو چکے ہیں، اور ہم اس بات سے متفق ہیں کہ موجودہ صورتحال عالمی وبا کی ہنگامی صورتحال کے معیار پر پوری نہیں اترتی۔"
ڈبلیو ایچ او میں وائرل ہیمرجک بخار کی ٹیکنیکل آفیسر انائس لیگنڈ نے کہا کہ اس بات کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں کہ مشرقی جمہوریہ کانگو میں ایبولا کتنے عرصے سے پھیل رہا ہے۔
انہوں نے کہا، "پھیلاؤ کے پیمانے کو دیکھتے ہوئے، ہمارا خیال ہے کہ یہ شاید چند ماہ پہلے شروع ہوا تھا، لیکن تحقیقات جاری ہیں اور ہماری ترجیح واقعی کانٹیکٹ ٹریسنگ (متاثرہ افراد سے ملنے والوں کی تلاش)، تنہائی (آئسولیشن) اور تمام مشتبہ اور تصدیق شدہ کیسز کی دیکھ بھال کے ذریعے منتقلی کے سلسلے کو توڑنا ہے۔"
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کو کہا تھا کہ ڈبلیو ایچ او نے اس مہلک وبا کی شناخت کرنے میں "تھوڑی دیر" کر دی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال عہدہ سنبھالتے ہی اپنے ابتدائی اقدامات میں ڈبلیو ایچ او سے امریکی انخلا کا عمل شروع کر دیا تھا، جس پر انہوں نے کووڈ-19 کی وبا کے دوران کیے گئے اقدامات پر سخت تنقید کی تھی۔
روبیو کی تنقید کے بارے میں پوچھے جانے پر، ٹیڈروس نے کہا کہ "شاید سیکرٹری نے جو کہا... وہ اس سمجھ بوجھ کی کمی کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ IHR کیسے کام کرتا ہے، اور ڈبلیو ایچ او اور دیگر اداروں کی کیا ذمہ داریاں ہیں"۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ ایجنسی وبائی امراض کے تدارک میں ممالک کی جگہ لینے کے بجائے ان کی مدد کے لیے کام کرتی ہے۔






