عراقی وزارت ِ عظمی کے دفتر کے مطابق عراق نے امریکی کمپنیوں کے ساتھ 48 معاہدے اور شراکتیں طے کیں، جن میں سے کئی تیل کے شعبے سے متعلق ہیں، یہ معاہدے وزیراعظم علی الزیدی کے امریکہ کے دورے کے دوران کیے گئے۔
تیل سے مالا مال عراق برسوں کے جنگ و انتشار سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر پھر بھی خراب بنیادی ڈھانچہ، ناکام عوامی خدمات، بدانتظامی اور جڑ پکڑی ہوئی بدعنوانی کا شکار ہے۔
یہ خاص طور پرمشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث تیل کی برآمدات رک جانے سے آمدنی میں کمی ہونے کے بعد فوری طور پر اقتصادی امداد کا محتاج ہے ۔
عراقی رہنما کے میڈیا دفتر نے کہا ہے کہ ُکل 48 معاہدوں، تفاهم ناموں، تعاون معاہدوں اور شراکت داری کے اعلانات پر دستخط کیے گئے جو عراق اور امریکہ کے عوامی اور نجی شعبوں کے اداروں کے درمیان تھے۔
ان میں 'وزارتِ تیل و وزارتِ بجلی ... کے ساتھ ایکسن موبل، کے بی آر، جی ای ورنووا، شیل، اور ہالی برٹن کے ساتھ تعاون اور شراکتیں' شامل ہیں، نیز عراق اور شام کے درمیان ایک بڑی خام تیل پائپ لائن کی تعمیر سے متعلق متعدد امور بھی ہیں۔
چیمپئن
عراق نے اسٹار لنک کے ساتھ بھی ایک معاہدہ کیا، جو عالمی سیٹلائٹ مواصلاتی شعبے میں غالب ہے، تاکہ ملک میں اس کی خدمات متعارف کرائی جا سکیں۔
منگل کو وائٹ ہاؤس میں ایک ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الزیدی کی تعریف کرتے ہوئے انہیں 'چیمپئن' قرار دیا۔
الزیدی، جو ایک تاجر ہیں، امریکی حمایت کے ساتھ اس سال اقتدار میں آئے، جب ٹرمپ نے ایک دوسرے امیدوار کو ویٹو کیا تھا۔
انہوں نے عراق کی نازک معیشت کو مضبوط کرنے اور ایسی ایران نواز مسلح تنظیموں کو غیر مسلح کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے جو امریکی تنصیبات کو نشانہ بناتی رہی ہیں۔
عراق طویل عرصے سے اتحادی ممالک، امریکہ اور پڑوسی ایران کے باہمی مقابل اثر و رسوخ کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔













