دنیا
3 منٹ پڑھنے
جل کر خاکستر ہونے والی فلپائنی فیری کے 84 مسافر تا حال لاتہ ہیں
امدادی ٹیم  بدھ کی رات لگی آگ کے ایک دن سے زیادہ  عرصے کے بعد بوٹ میں داخل ہو سکی، کیونکہ گھنے  دھوئیں اور شدید گرمی کی وجہ سے پہنچنے میں تاخیر ہوئی تھی۔
جل کر خاکستر ہونے والی فلپائنی فیری کے 84 مسافر تا حال لاتہ ہیں
کوسٹ گارڈ نے علاقے میں پانچ بحری جہاز اور غوطہ خور تعینات کیے ہیں، جبکہ فوج کی امدادی کشتیاں، ماہی گیر اور نجی ریزورٹ مالکان بھی تلاش میں مدد کر رہے ہیں۔ / AP

فلپائن کے فائر فائٹرز، منیلا سے مغربی صوبہ پالاوان جانے کے  دوران آگ لگنے سے  پانچ افراد کے ہلاک اور 80 سے زائد افراد کے  لاپتہ ہو نے والی ایک فیری بوٹ ، جو کہ مکمل طور پر جل چکی ہے میں داخل ہوئے۔

امدادی ٹیم  بدھ کی رات لگی آگ کے ایک دن سے زیادہ  عرصے کے بعد بوٹ میں داخل ہو سکی، کیونکہ گھنے  دھوئیں اور شدید گرمی کی وجہ سے پہنچنے میں تاخیر ہوئی تھی۔

فلپائن کوسٹ گارڈ نے لاپتہ افراد کی تعداد کو 86 سے کم کر کے 84 کر دیا ہے، بعد ازاں تصدیق کے بعد معلوم ہوا کہ فہرست میں دو افراد بوٹ پر موجود نہیں تھے۔ کل 43 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔

ریکارڈز کے مطابق  فیری میں 117 مسافر اور  عملے کے17 ارکان موجود تھے۔

بچ جانے والوں میں سے رچرڈ مارسیلیانو نے GMA News کو بتایا کہ انہوں نے ابتدا میں ہلکا سا دھواں دیکھا جو تیزی سے بھڑک اٹھا اور سیکنڈوں میں فیری میں پھیل گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور دیگر مسافر تقریباً دو گھنٹے تک  مدد آنے تک سمندر میں تیرتے رہے ۔

دریں اثنا، لاپتہ مسافروں کے رشتہ دار منیلا میں شپ اونرکے دفتر کے باہر جمع ہو گئے اور معلومات کا تقاضاکرتے  رہے ، کیونکہ یہ دفتر کسی کی بھی کال کا جواب نہیں دے رہا تھا۔

64 سالہ ایولین امپاڈ نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے اور بہو کی خبر کا انتظار کر رہی ہیں جو زمین خریدنے کے لیے پالاوان جا رہے تھے۔

انہوں نے کہا: "ہم نے بار بار فون کیا مگر کوئی جواب نہیں  ملا۔ انہوں نے میرا نمبر لے کر کہا کہ واپس فون کریں گے، مگر کسی نے رابطہ نہیں کیا، اس لیے ہم خود یہاں آ گئے تا  کہ  صورتحال صحیح پتہ چل سکے۔"

انہوں نے مزید کہا: "میری اپیل ہے کہ وہ کارروائی کریں اور ہمیں باقاعدہ معلومات دیتے رہیں۔"

فیری کمپنی نے کہا ہے کہ وہ واقعے کی تفتیش کرنے والے حکومتی حکام کے ساتھ پوری طرح تعاون کر رہی ہے۔

کوسٹ گارڈ نے اس علاقے میں پانچ جہاز اور غوطہ خور بھیج دیے ہیں، جبکہ فوجی ریسکیو بوٹس، ماہی گیر اور نجی ریزورٹ مالکان بھی تلاش میں مدد کر رہے ہیں، جس کی شروعات بدھ کی رات ہوئی تھی۔ کوسٹ گارڈ کی ترجمان کموڈور نویمی کیایابیاب نے کہا کہ ایک بڑا جہاز بھی تعینات کیا جائے گا۔

آگ لگنے کی وجہ واضح نہیں ہے۔ فیری اپنی 20 گھنٹے سے زائد کے سفر  کے اختتام کے قریب تھی اور کورون پہنچنے ہی والی تھی، جو پالاوان کے شمالی حصے میں ایک معروف سیاحتی مقام ہے، جب آگ بھڑک اٹھی۔

میرائن نے بچ جانے والوں کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آگ پھیلنے سے قبل بوٹ  کے اندر دو مسلسل دھماکوں کی آواز سنی گئی۔

کوسٹ گارڈ کے مطابق فیری کی  گنجائش  330 افراد تھی اور وہ سامان بھی لے جا رہی تھی، جن میں پانچ موٹر سائیکلیں، ایک الیکٹرک گاڑی، ایک فورک لفٹ اور ایک پک اپ ٹرک شامل تھے۔

7,600 سے زائد جزیروں پر مشتمل ملک میں کروڑوں لوگ  شہروں کے درمیان سفر کے لیے کشتیاں استعمال کرتے ہیں، جو کہ  نقل و حمل کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔

ملک کا بحری تحفظ کا ریکارڈ کمزور رہا ہے، اور ماضی کے فیری حادثات اکثر بھیڑ، خراب موسم اور حفاظتی قواعد کے کمزور نفاذ سے منسوب کیے گئے ہیں۔

 

دریافت کیجیے
اسرائیلی فورسز کے چھاپے کے دوران ایک فلسطینی شخص کو قتل کر  دیا گیا
ترکیہ: جنگی مجرم کی تکریم ناقابلِ قبول اور مذموم حرکت ہے
برطانیہ پر پابندی اور اس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے:اسرائیلی وزرا
حماس کا اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے شواہد چھپانے کا الزام
کینیڈا نے امریکی سامان پر 20 بلین ڈالر کے ٹیرف لگا دیئے
روس کے کیف پر میزائل اور ڈراون حملوں میں کم از کم دو افراد ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے
حوثیوں کے  حملے، سعودی عرب کی مذمت
امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان نے مشترکہ فوجی مشق شروع کر دیں
ترکیہ میں عجائب گھروں کی تعداد 2025 میں سالانہ 4.4 فیصد بڑھ کر 664 ہو گئی
اسرائیلی حملوں میں جنوبی لبنان میں دو شیرخوار بچوں سمیت کم از کم 11 افراد لقمہ اجل
غزہ میں قاتل اسرائیل کے حملوں میں مزید 5 فلسطینی شہید
بھارت: رہائشی عمارت منہدم، 5 افراد ہلاک
یمن: مسلّح افواج کے حوثیوں پر 13 فضائی حملے
ترکیہ اور 7 دیگر ممالک کی طرف سے اسرائیل کے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی منصوبوں کی مذمت
ہم پر پابندیاں لگانے سے امریکہ کو زیادہ نقصان ہوگا:ایران