امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان نے پانچ روزہ مشترکہ فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں۔
یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان نے پیر کے روز پانچ روزہ مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز کر دیا ہے۔ مشقوں کا مقصد مختلف شعبوں میں آپریشنل صلاحیتوں اور مشترکہ ردِعمل کی صلاحیت کو تقویت دینا ہے۔
ایجنسی نے جنوبی کوریا مسلّح افواج کے سربراہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’’فریڈم ایج‘‘ نامی یہ مشقیں جنوبی کوریا کے جزیرے جیجو کے مشرق اور جنوب میں بین الاقوامی پانیوں میں شروع کی گئی ہیں۔
مشقیں ایسے وقت میں شروع ہوئی ہیں جب امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ نے شمالی کوریا کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی ترغیب دینے کے لیے گزشتہ ماہ جنوبی کوریا کے ساتھ ہونے والی دو طرفہ ’’اُلچی فریڈم شیلڈ‘‘ مشقوں کا دورانیہ کم کر دیا تھا۔
جنوبی کوریا مسلّح افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ’’تینوں ممالک مضبوط اور مستحکم تعاون کے تعلقات برقرار رکھتے ہوئے ان مشقوں کے ذریعے بحری، فضائی اور سائبر شعبوں سمیت مختلف میدانوں میں اپنی آپریشنل صلاحیتوں اور مشترکہ ردِعمل کی استعداد کو بہتر بنائیں گے۔‘‘
مشقوں میں تینوں ممالک کے اہم بحری اور فضائی اثاثے حصہ لیں گے۔علاوہ ازیں کارروائیوں کو منظم اور محفوظ انداز میں انجام دینے کے لیے ایک مشترکہ کنٹرول گروپ بھی قائم کیا گیا ہے۔
جنوبی کوریا کی فوج نے کہا ہےکہ ان مشقوں کا مقصد شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل خطرات کے خلاف روک تھام اور ردِعمل کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اورعلاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔
دوسری طرف شمالی کوریا کا مؤقف ہے کہ ان ممالک کی جانب سے کی جانے والی فوجی مشقیں جنگ کی تیاری کے لیےایک ریہرسل کی حیثیت رکھتی ہیں۔
یونہاپ نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ تینوں ممالک ان مشقوں میں ایجس نظام سے لیس چھ جنگی جہازوں کے علاوہ بحری گشتی طیارے، لڑاکا طیارے اور فضائی ایندھن بھرنے والے طیارے بھی استعمال کریں گے۔





















