سیاست
3 منٹ پڑھنے
امریکی سیکرٹری خزانہ: ایرانی اقوام متحدہ وفد کیسے اپنے ملک کو لوٹے گا
اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں نے ایران کی بین الاقوامی پروازوں میں 90% تک کی رکاوٹ پیدا کی ہے کیونکہ واشنگٹن ٹہران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی اپنی مہم کو وسعت دے رہا ہے۔
امریکی سیکرٹری خزانہ: ایرانی اقوام متحدہ وفد کیسے اپنے ملک کو لوٹے گا
وزیر خزانہ سکاٹ بیسینٹ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ ایک تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے، 2 فروری 2026ء [فائل]۔ / AP

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ وہ سوچ رہے تھے کہ نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کرنے والی ایرانی وفد کس طرح وطن واپس لوٹے گا کیونکہ امریکی پابندیوں نے ملک کی بین الاقوامی فضائی سرگرمیوں کو محدود کر رکھا ہے۔

انہوں نے بدھ کو کہا کہ "آپریشن اکنامک آؤٹکاسٹ کے حوالے سے، ہم نے ایرانیوں پر اس طرح دبا رکھا ہے جیسا انہوں نے آج تک نہیں دیکھا۔"

انہوں نے کہا کہ یہ مہم ایران کے بین الاقوامی ہوائی رابطوں کو متاثر کر رہی ہے اور دعویٰ کیا کہ ایران سے بیرونی پروازوں کا 80 سے 90 فیصد سے زائد بند ہو چکا ہے۔

بیسنٹ نے ایران کی حمایت کرنے والے مالی اداروں، کمپنیوں اور دیگر کاروباروں کو بھی خبردار کیا کہ واشنگٹن ان کی سرگرمیوں اور بینک اکاؤنٹس کو نشانہ بنائے گا۔

انہوں نے کہا  کہ"ہم نے دنیا بھر میں یہ بات واضح کر دی ہے، چاہے وہ سرمایہ کار ہوں، کاروبار کرنے والے ہوں یا ایرانیوں کو سپلائی کرنے والے، ہم جانتے ہیں کہ آپ کون ہیں، آپ بھی جانتے ہیں کہ آپ کون ہیں۔"

مالی شعبے کا گلا گھونٹنا

انہوں نے امریکی حکمتِ عملی کو فوجی کارروائی، بحری محاصرہ اور مالی دباؤ کے امتزاج کے طور پر بیان کیا۔

انہوں نے کہا"ہم نےچھ ہفتوں تک متحرک عسکری کارروائی کی۔ ہم نے  محاصرہ کیا۔ اور اب ایک ایسی کوشش ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی، جس کا مقصد ان کے لیے مالی شعبوں کو محدود اور منقطع کرنا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کی دباؤ مہم ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے، اور کہا کہ امریکہ تین ممکنہ نتائج میں سے کسی ایک کی کوشش کر رہا ہے: ایرانی قیادت کے اندر انتشار، ایرانی عوام کی طرف سے بغاوت، یا ایسا معاہدہ جس کے تحت تہران اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرے۔

بیسنٹ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ نے سال کے آغاز میں ایران کے ساتھ ایک معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی تھی لیکن بعد ازاں تہران پر آبنائے ہرمز میں حملوں کو بڑھانے کا الزام لگایا۔

انہوں نے کہا"اگر کوئی معاہدہ ہوا تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں وہ اس پر قائم رہیں گے۔"

امریکہ نے اگست میں 'آپریشن اکنامک آؤٹکاسٹ' شروع کیا، جو ایران کو معاشی طور پر الگ کرنے اور ان کمپنیوں، مالی اداروں اور دیگر اداروں کو نشانہ بنانے کی ایک وسیع مہم ہے جو تہران کو امریکی پابندیوں سے بچنے میں مدد دے رہے ہیں۔

محکمۂ خزانہ نے تب سے اس مہم کو ایران کی فضائی نیٹ ورکس، مالی اداروں اور کرپٹو کرنسی سے متعلق انفراسٹرکچر کو بھی ہدف بنانے کے لیے وسعت دی ہے۔

 

دریافت کیجیے
برطانوی وزیر اعظم: ہم غزہ اور مغربی کنارے کی موجود صورتحال پر خاموش نہیں رہیں گے
وزیر فیدان نے ترکیہ-شام-سعودی عرب وزرائے خارجہ اجلاس کی میزبانی کی
جنوبی کوریا: ہم، شمالی کوریا کو امن اور تعاون کی دعوت دیتے ہیں
گوتریش: دو ریاستی حل کے نظریے کو 'ہماری نظروں کے سامنے' مٹایا جا رہا ہے
ایردوان: ریاستِ فلسطین کو مسخ کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی
صدر ایردوان کا اقوام متحدہ میں خطاب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر عالمی سطح پر ایجنڈے کا موضوع بن گیا
ایرانی اسپیکر "ٹرمپ کو ایک بنیادی تہذیب، قومی اور مذہبی مزاحمت کا سامنا ہے"
ترکیہ اور امریکہ نئی نسل کے ری ایکٹر  معاہدے کے ساتھ جوہری تعاون میں گہرائی لا رہے ہیں
یورپی یونین: بحیرہ احمر میں متعین جنگی جہازوں کی تعداد بڑھائی جائے
160 سے زیادہ کھلاڑیوں کی آئرلینڈ-اسرائیل فٹبال میچ کے بائیکاٹ کی اپیل
جاپان میں طوفان 'دوژان' کے اثرات سے 4 افراد ہلاک
ترکیہ: بیان جعلی ہے
برطانیہ، سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کرے گا: برنہیم
ایردوان، ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات میں CAATSA معافی اور S-400 کے حل کو آگے بڑھائیں گے، فیدان
چینی صوبے گوانگ دونگ میں ایک ٹیکسٹائل ورکشاپ میں آگ لگنے سے 8 محنت کش ہلاک