دنیا
2 منٹ پڑھنے
پینٹاگون کے نگران کا انکشاف: ایران جنگ سے 'حکمت عملی' گولہ بارود میں بہت زیادہ کمی ہوئی
امریکی فوج کو ایران کے ساتھ چند ماہ کی جنگ میں ہتھیاروں کی پیداوار میں رکاوٹوں کے باعث حساس موجودگی کی کمی کا سامنا ہے۔
پینٹاگون کے نگران کا انکشاف: ایران جنگ سے 'حکمت عملی' گولہ بارود میں بہت زیادہ کمی ہوئی
پینٹاگون کے نگران ادارے نے ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں گولہ بارود کی قلت سے خبردار کیا ہے۔ / AP

امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل نے بتایا ہے کہ ایران میں مہنگی فوجی مہم کے براہِ راست نتیجے کے طور پر امریکہ گولہ بارود کے ذخائر میں اسٹریٹجک کمزوریوں کا سامنا کر رہا ہے۔

کانگریس کو پیش کردہ مذکورہ پہلی رپورٹ  میں پینٹاگون کے نگران ادارے  نے واضح کیا ہے  کہ 28 فروری تا 30 جون کے آپریشن ایپک فیوری (OEF) پر اندازاً 33.4 ارب ڈالر لاگت آئی، جس میں سے گولہ بارود پر 22.3 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔

رپورٹ میں نوٹ کیا گیا کہ "OEF پر گولہ بارود کے اخراجات نے اسٹریٹجک اسٹاک میں کمی لائی  ہے اور ان کی  دوبارہ فراہمی کے لیے صنعتی بنیاد میں رکاوٹیں موجود ہیں ۔"

نگران ادارے نے مہم کے دوران امریکی بیڑے کو پہنچنے والے اہم سازوسامان کے نقصانات کی تفصیل دی، جن میں چار F-15 لڑاکا طیارے تباہ، ایک F-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ  متاثر ، سات KC-135 ایندھن بھرنے والے ٹینکرز متاثر اور ممکنہ طور پر 30 تک MQ-9 ریپر ڈراونز مار گرائے گئے۔

بیڑے کے نقصانات

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےکم ہونے والے ہتھیاروں کے ذخائر کے بارے میں خدشات کو نظرانداز کیا ہے۔ پیر کو  ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ٹرمپ نے  اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکی کارخانے 'ہماری تاریخ میں کسی بھی دور سے زیادہ نفیس اور اعلیٰ ہتھیار' تیار کر رہے ہیں۔

تاہم رپورٹس سے واضح ہوا ہے کہ طویل فاصلے کے درست رہنمائی والے میزائلوں اور فضائی دفاع کے انٹرسیپٹرز کی شدید قلت نے ایران کے خلاف فوجی منصوبہ بندی کو محدود کر دیا ہے، اور امریکی افواج نے اپنے THAAD میزائل انٹرسیپٹر ذخائر کا تقریباً 80 فیصد  استعمال کر لیا ہے۔

جنگ کے ابتدائی 24 گھنٹوں کے دوران امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایک ہزار سے زائد اہداف پر حملے کیے ، تا ہم فوج نے دوبارہ اس سطح کی  بمباری  نہیں کی۔

نگران ادارے نے مزید کہا کہ ایرانی حملوں نے کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں امریکی تنصیبات پر سینکڑوں تنصیبات  کو نقصان پہنچایا یا تباہ کیا۔

ان تعمیر نو کے اخراجات کو مرکزی بجٹ سے خارج رکھا گیا ہے، کیونکہ حکام اس کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا نقصان زدہ مقامات کو دوبارہ تعمیر کیا جائے گا یا نہیں  اور ان کارروائیوں کی مالی اعانت  کہاں سے ہو گی۔

 

دریافت کیجیے
لبنان سے انخلاء تک اسرائیل کے ساتھ کوئی نئی مذاکرات نہیں: عون
سعودی عرب: عراق سے تیل پائپ لائن کو نشانہ بنائے جانے کے بعد بغداد اس واقع کی تحقیقات کر رہا ہے
یمنی فوج نے مغربی ساحل پر حوثی محاذوں پر فضائی حملے کیے
اقوام متحدہ نے یمن میں انسانی امداد کے مرکز پر حوثیوں کے قبضے کی مذمت کی
سعودی عرب کا کہنا ہے کہ عراق سے ہونے والے حملے میں مشرق۔ مغرب پائپ لائن کو نشانہ بنایا گیا ہے
ایران پر امریکی دباؤ 'خطرناک' مرحلے پر آن پہنچا ہے، پزشکیان
آکنجی کی نئے سپرسونک 300 میزائل کی کامیاب آزمائش
اگر ریپبلیکنز کو ووٹ نہیں دیا تو جہنم مقدر ہوگا:ٹرمپ
"نازا" غزہ نسل کشی کے پس پردہ عوامل پر مبنی فلم
ٹرمپ 9/11 کی 25 ویں برسی کی تقریب میں پینٹاگون میں شرکت کریں گے
جل کر خاکستر ہونے والی فلپائنی فیری کے 84 مسافر تا حال لاتہ ہیں
ترکیہ کوانٹم اور خلائی ٹیکنالوجی کے لئے خصوصی فنڈ مختص کر رہا ہے
اگست دنیا کا گرم ترین مہینہ
آبنائے ہرمز کا نام آبنائے ٹرمپ ہونا چاہیئے:ٹرمپ
اردن کے امریکی اڈے پر ایران کا حملہ،تفصیلات سامنے آ گئیں