آسکر ایوارڈ یافتہ اسرائیلی ہدایت کاروں یوول ابراہام اور راچل زوور کی نئی دستاویزی فلم نے وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں اپنا پریمیئر کیا ہے۔
اس فلم میں 24 اسرائیلی فوجی اور انٹیلیجنس اہلکاروں کی شہادتیں پیش کی گئی ہیں، جو یہ انکشاف کرتی ہیں کہ محصور غزہ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خدشے کے باوجود فلسطینیوں کی شناخت، نگرانی اور ان پر حملوں کے لیے کن خفیہ نظاموں کا استعمال کیا گیا۔
"NAZA" عنوان سے بننے والی اور دی گارڈین کی پروڈیوس کردہ یہ فلم 83ویں وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کے مرکزی مقابلے میں دکھائی گئی اور یہ اس سال 'گولڈن لائن' کے لیے مقابلہ کرنے والی واحد دستاویزی فلم ہے۔
فلم کا نام 'NAZA' سے لیا گیا ہے، جو عبرانی زبان کا ایک فوجی مخفف ہے اور یہ وہ اصطلاح ہے جسے اسرائیلی انٹیلیجنس کسی حملے میں ممکنہ طور پر ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد، یعنی 'ذیلی نقصان' کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔
80 منٹ کی اس دستاویزی فلم کو دی گارڈین اور جے ڈبلیو فلمز کے جیمز ولسن نے پروڈیوس کیا ہے، جبکہ جوناتھن گلیزر اس کے پروڈیوسر کے طور پر شامل ہیں۔
ولسن اور گلیزر نے اس سے قبل آسکر جیتنے والی فلم 'دی زون آف انٹرسٹ' میں بھی ایک ساتھ کام کیا تھا۔
یہ فلم 2023 سے 2025 کے درمیان اسرائیل-فلسطین میڈیا آؤٹ لیٹ '+972 میگزین'، عبرانی زبان کے جریدے 'لوکل کال' اور 'دی گارڈین' کی جانب سے شائع کی جانے والی تحقیقات پر مبنی ہے۔
فلم کے لیے انٹرویو دینے والے اسرائیلی انٹیلیجنس افسران اور فوجیوں نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ان نظاموں کے بارے میں بتایا ہے جو حماس کے متعدد نچلے درجے کے مشتبہ ارکان کو ممکنہ اہداف کے طور پر شناخت کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
گواہوں کے مطابق، ان نظاموں کے ذریعے شناخت کیے گئے افراد کو رات کے وقت ان کے گھروں میں بمباری کا نشانہ بنایا گیا، حالانکہ یہ معلوم تھا کہ ان حملوں میں ان کے اہل خانہ بھی مارے جائیں گے۔
اندرونی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے نشانہ بنائے گئے افراد کے فون ہیک کر کے ان کے مقامات کا تعین کیا۔ شہادتوں کے مطابق، انٹیلیجنس افسران اہداف کی ان کی بیویوں اور بچوں کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو خفیہ طور پر سنتے تھے اور بعض اوقات یہ جاسوسی گھروں پر حملوں سے بالکل پہلے تک جاری رہتی تھی۔
وینس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ابراہام نے کہا کہ ہدایت کاروں نے اہلکاروں سے صرف ان کا کام بیان کرنے کو کہا تھا۔ انہوں نےکہا کہ ہم نے ان افسران سے بس یہ کہا کہ براہ کرم ہمیں بتائیں کہ آپ کیا کرتے ہیں۔ یہ نظام کیسے کام کرتے ہیں؟ ہمارے لیے اس کا ایک خاکہ کھینچیں۔' بعض اوقات، صرف سوالات پوچھنے سے ہی آپ کو جوابات مل جاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ نے پچھتاوے کا اظہار نہیں کیا، جبکہ کچھ نے کیا۔ کچھ نے بے حسی سے بات کی اور کچھ نے فخر کے ساتھ۔"
ان شہادتوں میں اسرائیلی فوج کی جانب سے ان محلوں کو تباہ کرنے کے آنکھوں دیکھے احوال بھی شامل ہیں جہاں کے بارے میں اندازہ تھا کہ وہاں کی 25 فیصد تک آبادی اب بھی اپنے گھروں میں موجود ہے۔ انٹرویو دینے والوں نے سویلین گھروں کو منظم طریقے سے جلانے اور امدادی خوراک کی تقسیم کے ایک مرکز پر شہریوں کے قتل کے واقعات کو بیان کیا۔
دی گارڈین کے مطابق، متعدد انٹرویو دینے والے ایک ایسے خفیہ انٹیلیجنس یونٹ میں کام کرتے تھے جو براہ راست اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر کو رپورٹ کرتا تھا۔ ان میں سے ایک نے بتایا کہ اس یونٹ کا کام ہی "امن کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا" تھا۔
ابراہام اور زوور کا کہنا تھا کہ اس فلم کی توجہ انفرادی فوجیوں کے برے رویے کے بجائے فوجی پالیسیوں اور طریقوں پر ہے۔ انہوں نے کہا: "ہمارا محور باغی فوجیوں کے ذریعے کیے جانے والے اکادکا جنگی جرائم نہیں ہیں، بلکہ خود احکامات، پالیسیاں، منظور شدہ طریقے، وہ زبان اور منطق ہے جو ان طریقوں کو ممکن بناتی ہے، اور ان کے اندر کام کرنے والے لوگ ہیں۔ یعنی وہ نظام اور اس کے پرزے۔" ابراہام نے اس فلم کو 24 اندرونی ذرائع کی شہادتوں پر مبنی "بڑے پیمانے پر قتل کرنے والے نظام" کا ایک جائزہ قرار دیا۔



















