رواں سال کا ماہِ اگست دنیا بھر میں ریکارڈ میں آنے والا اب تک کا گرم ترین مہینہ رہا ہے۔
یورپی یونین کے محکمہ موسمیات 'کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس' نے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں اگست کے مہینے کو دنیا بھر میں اب تک کا گرم ترین مہینہ قرار دیا ہے۔اس مہینے میں مغربی یورپ نے اپنی تاریخ کا گرم ترین موسم گرما دیکھا اور بحری درجۂ حرارت بھی بے مثال سطح تک پہنچ گیا۔
محکمے کے جاری کردہ جائزے کے جواب میں اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ جب تک انسانیت فوسل ایندھن کو ترک نہیں کرتی کرۂ ارضی ایسے حالات کی جانب بڑھتا رہے گا جو اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئے۔
اگرچہ کوپرنیکس کے مشاہدات 1940 تک جاتے ہیں، لیکن برف کے مرکزے، درختوں کے حلقے اور مرجانی ڈھانچے ایسے شواہد ہیں جو سائنس دانوں کو موجودہ آب و ہوا کا جائزہ کہیں زیادہ طویل تاریخی تناظر میں لینے کے قابل بناتے ہیں۔
کوپرنیکس کے نگران ادارے 'یورپی سینٹربرائے درمیانی مدّت کی موسمیاتی پیشین گوئی' (ECMWF) سے 'سمانتھا برجس 'نے اے ایف پی کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "ممکنہ طور پر گزشتہ کم از کم ایک لاکھ سال سے انسانیت نے آج جتنے بلند درجۂ حرارت کا مشاہدہ نہیں کیا ہے"۔
کوپرنیکس کے مطابق اگست میں اوسط عالمی درجۂ حرارت 16.96 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا جو جولائی 2023 میں ریکارڈ کیے گئے سابقہ ماہانہ ریکارڈ سے 0.01 ڈگری سیلسیس زیادہ تھا۔ دونوں مہینوں کے درمیان فرق انتہائی معمولی ہونے کی وجہ سے کوپرنیکس نے دونوں مہینوں کو مشترکہ طور پر اب تک کے گرم ترین مہینوں میں شمار کیا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کوئلے، تیل اور گیس جیسے فوسل ایندھن جلانے سے صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں کرۂ ارض کا درجۂ حرارت تقریباً 1.4 ڈگری سیلسیس بڑھ چکا ہے جس سے شدید موسمی واقعات کی شدت اور ان کے رونما ہونے کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔
اس کے برعکس، گرمی کو ماحول میں روکے رکھنے والی گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج 2025 میں نئی ریکارڈ سطحوں تک پہنچ گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے موسمیاتی امور کے سربراہ سائمن اسٹیل نے کوپرنیکس کی رپورٹ پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ"یہ شواہد ناقابلِ تردید ہیں۔ یہ انسانیت کے فوسل ایندھن پر بڑھتے ہوئے انحصار کا اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عالمی موسمیاتی بحران کا مستقل بڑھتا ہوا بدل ہے"۔















