رائے
ترکیہ
8 منٹ پڑھنے
ترکیہ۔لیبیا بحری اختیار معاہدہ کیوں اہم ہے؟
معاہدہ بین الاقوامی قانون اور اصولِ انصاف کی بنیاد پر دونوں ممالک کے باہمی حقوق و مفادات کا تحفظ کرتا ہے: ترکیہ وزارتِ خارجہ
ترکیہ۔لیبیا بحری اختیار معاہدہ کیوں اہم ہے؟
Turkish FM Hakan Fidan met Mohamed Miftah Takala, Chairman of the High Council of State of Libya, in Tripoli.

ترکیہ۔لیبیا بحری اختیار معاہدہ کیوں اہم ہے؟

مشرقی بحیرۂ روم میں بحری حدود اور بحری اختیارات کا معاملہ کئی برسوں سے خطے کے ممالک کے درمیان سفارتی کشمکش کا مرکزی موضوع رہا ہے۔

یونان کی جانب سے جزیروں کو مکمل بحری حقوق دینے اور اس طرح ترکیہ کے بحری دائرۂ اختیار کو محدود کرنے کے بے بنیاد دعوے اس کشمکش کے اہم پہلوؤں میں سے ایک ہیں۔

انقرہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ یہ مؤقف، خطے کے جغرافیائی حقائق اور ترکیہ کی طویل ساحلی پٹّی کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے، بین الاقوامی قانون اور اصولِ انصاف کے منافی ہے۔

ترکیہ اور لیبیا کے درمیان 27 نومبر 2019 کو استنبول میں طے کیے گئے مفاہمتی معاہدے میں بھی دونوں ممالک نے سمندری حدود کے تعین کے حوالے سے ایک متفقہ حدبندی وضع کی تھی۔ بحیرۂ روم میں براعظمی طاس اور خصوصی اقتصادی زون کی حدود کے ایک حصے کا تعین کرنے والا یہ معاہدہ، لیبیا اسمبلی کی جانب سے 20 اکتوبر کو منظوری حاصل کرنے کے بعد ایک بار پھر مرکزِ توجہ بن گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس معاہدے سے دونوں ممالک کو کیا فوائد حاصل ہوتے ہیں؟ ترکیہ کے لیے اس کی اہمیت کیا ہے؟ اور پارلیمنٹ کی منظوری سمندر میں دونوں ممالک کے تعاون پر کس طرح اثر انداز ہو سکتی ہے؟

چناق قلعہ 18 مارچ یونیورسٹی کے شعبۂ سیاسیات و بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ڈاکٹر افق نجات تاشچی کے مطابق اس معاہدے کی اہمیت، مشرقی بحیرۂ روم میں، منصفانہ تقسیم کے تصور کو ایک ٹھوس مفاہمت کی شکل دینے میں پوشیدہ ہے۔

منصفانہ تقسیم کیوں اہم ہے؟

مشرقی بحیرۂ روم میں ترکیہ کے مؤقف کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ سمندری حدود کا تعین کرتے وقت خطے کی جغرافیائی خصوصیات کو مدّ نظر رکھا جائے تاکہ منصفانہ نتیجہ حاصل ہو سکے۔ تاشچی بھی ترکیہ اور لیبیا کے درمیان ہونے والے مفاہمتی معاہدے کو اسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔

تاشچی کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ان کوششوں کا جواب ہے جن کا مقصد ترکیہ کو مشرقی بحیرۂ روم کے سیاسی اور اقتصادی معاملات سے باہر رکھنا ہے۔ وہ، دونوں ممالک کے درمیان سمندری حدود کے تعین میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے واقع، ساحلی علاقوں کو بنیاد بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہیں۔

تاشچی کے مطابق لیبیا کے لئے بھی یہ معاملہ براہِ راست اس کے سمندری حقوق کے تحفظ سے متعلق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سمندری حدود کے تعین میں کریٹ، کارپاتھوس، کاسو اور روڈوس جزائر کو مکمل اثر و رسوخ دینے کا مؤقف لیبیا کے بحری دائرۂ اختیار کو محدود کر سکتا ہے۔ اسی لیے یہ مفاہمت دونوں ممالک کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔

’’یہ ایک سفارتی کامیابی ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ صرف لیبیا ہی نہیں بلکہ مصر سمیت خطے کے تمام ممالک ترکیہ کے ساتھ معاہدے کرنے کی صورت میں کہیں زیادہ وسیع بحری علاقوں پر حقوق حاصل کر سکتے ہیں۔ اس طرح لیبیا نے مشرقی بحیرۂ روم میں یونان کے یک طرفہ دعوؤں کے نتیجے میں ممکنہ طور پر پیدا ہونے والی محرومیوں، مثلاً کریٹ، کارپاتھوس، کاسو اور روڈس جزائر کو مکمل برّاعظمی طاس تسلیم کرنے کے مؤقف، سے بچنے کی راہ ہموار کی ہے۔‘‘

 انقرہ کا پیغام واضح ہے: مشترکہ حقوق اور مفادات

ترکیہ کی جانب سے معاہدے کی منظوری سے متعلق جاری کئے گئےبیان میں بھی یہی مؤقف نمایاں ہے۔ وزارتِ خارجہ نے 20 اکتوبر کو جاری کردہ بیان میں اس مفاہمتی معاہدے کے 2019 سے نافذ العمل ہونے کی یاد دہانی کروائی اور اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

وزارت نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ بین الاقوامی قانون اور اصولِ انصاف کی بنیاد پر دونوں ممالک کے باہمی حقوق اور مفادات کا تحفظ کرتا ہے اور دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

محکمۂ اطلاعات کے سربراہ برہان الدین دُران نے بھی اس فیصلے کو مشترکہ حقوق و مفادات کے تحفظ، بحری حدود کے منصفانہ بنیادوں پر تعین اور علاقائی تعاون میں مضبوطی کے حوالے سے اہم قرار دیا ہے۔

دوسری جانب تاشچی نے ترکیہ کے لیے اس مفاہمت کی اہمیت کو، ترکیہ کے بحری دائرۂ اختیار کو محدود کرنے والے موقف کی حد بندی کرنے کے حوالے سے بیان کیا ہے۔ وہ اس بات کی جانب توجہ دلاتے ہیں کہ ترکیہ کو خلیجِ انطالیہ تک محدود کرنے کی کوششوں کے مقابل لیبیا کے ساتھ ایک ایسی سمندری حدبندی پر اتفاق کیا گیا ہے جو ترکیہ کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے۔

تاشچی کے مطابق یہ مؤقف دیگر ساحلی ممالک کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ اس معاہدے کو علاقائی سفارت کاری کے اہم ذرائع میں سے ایک سمجھتے ہیں۔

معاہدے کی وہ شق جس پر کم بات ہوتی ہے۔۔۔

اس مفاہمتی معاہدے کی اہمیت صرف نقشے پر سمندری حدود کی لکیر تک محدود نہیں ہے۔ اس کی چوتھی شق میں ایسی دفعات شامل ہیں جو مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان سمندری حدود کے تعین سے متعلق مذاکرات پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔

اس شق کے مطابق اگر فریقین میں سے کوئی ایک اپنے خصوصی اقتصادی زون کی حدود متعین کرنے کے لیے کسی تیسرے ملک کے ساتھ مذاکرات کرتا ہے تو حتمی معاہدے تک پہنچنے سے پہلے وہ دوسرے فریق کو مطلع کرے گا اور اس کے ساتھ مشاورت بھی کرے گا۔

اسی شق میں یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ اگر ایک فریق کے خصوصی اقتصادی زون سے دوسرے فریق کے خصوصی اقتصادی زون تک پھیلے ہوئے قدرتی وسائل دریافت ہوں تو ان وسائل کے استعمال اور ان سے استفادے کے طریقۂ کار پر اتفاق کرنے کے لیے دونوں ممالک باہمی تعاون کر سکتے ہیں۔

لہٰذا، یہ مفاہمتی معاہدہ نہ صرف سمندری حدود کے تعین بلکہ باہمی معلومات کے تبادلے اور قدرتی وسائل کے حوالے سے تعاون کے لیے بھی ایک مشترکہ لائحۂ عمل فراہم کرتا ہے۔

صدام حفتر: یہ معاہدہ ایک وسیع تر وژن کا حصہ ہے

لیبیا کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں بھی سمندری حقوق اور اقتصادی تعاون کو ایک ساتھ اہمیت دی جا رہی ہے۔

مشرقی لیبیا میں لیبیائی قومی فوج کے نائب کمانڈر صدام حفتر نے معاہدے کی منظوری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے ان ذرائع میں سے ایک قرار دیا جن کے ذریعے بحیرۂ روم میں ان کے ملک کے حقوق اور اقتصادی مفادات کے تحفظ میں مدد مل سکتی ہے۔

ترکیہ کے وزیر خارجہ خاقان فیدان نے بھی 20 اکتوبر کو لیبیا کی قومی اتحاد حکومت کے وزیراعظم عبدالحمید دبیبہ اور صدام حفتر کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران، لیبیا اسمبلی کے فیصلے پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

لیبیا کی اعلیٰ ریاستی کونسل نے 21 اکتوبر کو جاری کردہ بیان میں اس منظوری کو ملک کے بحری خودمختاری حقوق اور قومی مفادات کے تحفظ کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔ کونسل نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ متعلقہ قانونی مراحل مکمل کیے جائیں اور مجاز اداروں کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی برقرار رکھی جائے۔

تاشچی اس صورتِ حال کو ترکیہ کی، لیبیا کے تمام فریقوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی، پالیسی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

’’ہم دیکھ رہے ہیں کہ ترکیہ کی ’متحدہ لیبیا‘ پالیسی کو ملک کے تمام حلقوں میں پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ بالخصوص مشرقی لیبیا، جو خلیفہ حفتر اور ان کے بیٹوں کے زیرِ اثر ہے، اور وہاں کی پارلیمنٹ بھی ترکیہ کو ایک ایسے فریق کے طور پر دیکھتی ہے جو استحکام کے قیام میں کردار ادا کر سکتا ہے۔‘‘

توانائی کے شعبے میں تعاون کے عملی اقدامات

ترکیہ اور لیبیا کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون، سمندری حدود کے تعین کے علاوہ الگ الگ لائسنسوں اور تجارتی معاہدوں کے ذریعے بھی آگے بڑھ رہا ہے۔

لیبیا وزارتِ تیل و گیس کے 25 جون 2025 کو جاری کردہ بیان کے مطابق ترک پیٹرولیم کارپوریشن (TPAO) اور لیبیا کی قومی تیل کمپنی کے درمیان ایک مفاہمتی معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اس مفاہمت کے تحت سمندر میں چار علاقوں میں ارضیاتی اور جیو فزیکل تحقیقات کی جائیں گی۔ منصوبے میں مجموعی طور پر 10 ہزار کلومیٹر طویل دو جہتی زلزلہ جاتی سروے کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ترکیہ کے وزیرِ توانائی و قدرتی وسائل آلپ ارسلان بائیراکتار نے 12 فروری 2026 کو اعلان کیا تھا کہ ترک پیٹرولیم کارپوریشن نے لیبیا میں ہونے والی نیلامی کے دوران دو بلاکوں میں تلاش اور پیداوار کے لائسنس حاصل کرنے کا حق جیت لیا ہے۔ ان بلاکوں میں سے ایک سمندر اور دوسرا خشکی پر واقع ہے۔

ترک پیٹرولیم کارپوریشن ان علاقوں میں 40 فیصد حصے کی مالک ہوگی جہاں وہ اسپین کی کمپنی ریپسول کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ سمندری علاقے میں ہنگری کی کمپنی MOL بھی شراکت داروں میں شامل ہے۔ تاہم، ڈرلنگ کے مرحلے میں داخل ہونے کا انحصار لائسنسوں، تکنیکی تحقیقات اور سرمایہ کاری سے متعلق فیصلوں پر ہوگا۔

منظوری کا کیا مطلب ہے؟

حالیہ فیصلہ 2019 سے نافذ العمل مفاہمتی معاہدے کے تحت لیبیا میں ادارہ جاتی حمایت کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان سمندری حدود اور اقتصادی تعاون کے شعبوں میں مشترکہ طور پر آگے بڑھنے کے حوالے سے اہمیت رکھتی ہے۔

تاشچی کے مطابق ترکیہ نے اپنی سفارتی سرگرمیوں کو زمینی سطح پر اپنی موجودگی کے ساتھ مربوط رکھا ہے، جس سے اسے لیبیا کے مختلف فریقوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں مدد ملی ہے۔ توقع ہے کہ آئندہ عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون لیبیا کی وحدت، اس کے قدرتی وسائل کے تحفظ اور مشرقی بحیرۂ روم میں اس کے حقوق کے دفاع کے محور پر آگے بڑھے گا۔

دریافت کیجیے
عرب اتحاد، یمن میں حوثیوں کے 5 سرنگ نما گوداموں، 6 لانچنگ پیڈ اور 1میزائل ڈپو کو نشانہ بنایا گیا ہے
روس اور یوکرین سے رات بھر کے حملوں میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات
برازیل: لولا دا سلوا نے میدان مار لیا
ترکیہ۔آرمینیا سرحد پر واقع آنی پُل کا ٹینڈر منظور ہو گیا
روس: یوکرین کے لاجسٹک مراکز اور مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے
ازبکستان نے ایرانی سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کر لیا
اسرائیل نے ’’نسلی صفائی‘‘ پالیسی کو الخلیل تک پھیلا دیا ہے
اٹلی اور اسپین میں احتجاجی مظاہرے، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں
نائیجیریا: مسلح حملہ، 20 افراد ہلاک
اسرائیل میں ہزاروں افراد کی شرکت سے احتجاجی مظاہرہ
ایران پر حملہ 'کل' ہی ہو سکتا ہے: ٹرمپ
امریکہ: مسلّح حملے میں 12 افراد زخمی ہو گئے
ایردوان: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ اور جامع بنایا جانا چاہیے
چار فلپائنی فضائیہ کے پائلٹ تربیتی مشق کے دوران فضاء میں تصادم کے نتیجے میں ہلاک
ترکیہ نے اردن میں چرچ پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی