عبرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، اسرائیل نے انتہائی دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر کی اس متنازع تجویز پر عمل درآمد کے لیے ایک قانونی قدم اٹھایا ہے، جس میں تقریباً 10,000 فلسطینی قیدیوں والی جیلوں کے گرد مگرمچھوں سے بھری خندقیں بنانے کا منصوبہ شامل ہے ۔
اسرائیل کے چینل 7نے رپورٹ کیا کہ وزیر برائے تحفظِ ماحول عیدیت سیلمان نے ایک حکم نامے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت مگرمچھوں کو "زیرِ انتظام جنگلی جانور" کے طور پر دوبارہ درجہ بند کیا گیا ہے ۔
یہ فیصلہ اسرائیل کی جیل انتظامیہ سمیت دیگر سرکاری اداروں کو مخصوص شرائط کے تحت اپنے احاطے میں مگرمچھ رکھنے کی اجازت دیتا ہے ۔
اس میڈیا گروپ نے بتایا کہ اس اقدام نے ایک بڑی قانونی رکاوٹ کو ختم کر دیا ہے جس نے پہلے اس منصوبے کو روکا ہوا تھا کیونکہ مگرمچھوں کو پہلے تحفظ یافتہ جنگلی جانوروں کے طور پر درجہ بند کیا گیا تھا جنہیں صرف لائسنس یافتہ چڑیا گھروں میں ہی رکھا جا سکتا تھا۔
چینل 13 نے رپورٹ کیا کہ یہ قانونی تبدیلی اسرائیل کی 'نیچر اینڈ پارکس اتھارٹی' کی جانب سے اس پروجیکٹ جسے عبرانی میڈیا میں "مگرمچھ جیل" کا نام دیا گیا ہے—کے خلاف اٹھائے گئے اعتراضات کے بعد سامنے آئی ہے ۔ بن گویر نے تقریباً چھ ماہ قبل اس تجویز کا اعلان کیا تھا، جس میں فلسطینی قیدیوں کے فرار کی کوششوں کو روکنے کے لیے مگرمچھوں سے گھری ایک ہائی سیکیورٹی جیل کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔
چینل 7 کے مطابق، اسرائیل کی جیل انتظامیہ نے پہلے ہی اس منصوبے کےامکانات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے، جس میں ان رینگنے والے جانوروں کی دیکھ بھال اور نگہداشت کی ضروریات کا مطالعہ کرنے کے لیے چڑیا گھروں کے دورے بھی شامل ہیں ۔
میڈیا نے رپورٹ کیا کہ حکام کا ماننا ہے کہ مگرمچھوں سے بھری خندقیں جیل کی سیکیورٹی کو مضبوط بنا سکتی ہیں جبکہ گارڈز کی تعیناتی کے اخراجات کو کم کر سکتی ہیں ۔
اس نے یہ بھی بتایا کہ ایک چھوٹے مگرمچھ کی قیمت تقریباً 8,000 ڈالرز جبکہ ایک بالغ مگرمچھ کی قیمت 20,000 ڈالرز تک ہو سکتی ہے ۔
اسرائیل کی جیل انتظامیہ نے ابھی تک اس منصوبے یا اس پر کہاں عمل درآمد کیا جا سکتا ہے، اس کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے ۔
اس وقت، خواتین اور بچوں سمیت تقریباً 9,500 فلسطینی اسرائیل کی جیلوں اور حراستی مراکز میں ایسے حالات میں قید ہیں جن کے بارے میں فلسطینی اور اسرائیلی انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ ان میں فاقہ کشی، تشدد اور طبی غفلت شامل ہے، جس کی وجہ سے درجنوں فلسطینیوں کی پراسرار موت واقع ہو چکی ہے ۔













