سیاست
3 منٹ پڑھنے
روسی صدر یوکرین اور ایران میں جنگیں جاری ہونے کے ماحول میں برکس سمٹ کے لیے بھارت میں
11 رکنی بریکس سمٹ میں مشرق وسطی اور یوکرین میں جاری جنگیں اور اقتصادی چیلنجوں کا غلبہ رہنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
روسی صدر یوکرین اور ایران میں جنگیں جاری ہونے کے ماحول میں برکس سمٹ کے لیے بھارت میں
پیوٹن نے آخری بار دسمبر 2025 میں بھارت کا دورہ کیا تھا، لیکن انہوں نے رواں ماہ کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں بھی مودی سے ملاقات کی۔ / AP Archive

روسی صدر ولادیمیر پوتن 11 رکنی برکس سربراہی اجلاس،  کہ جس میں مشرق وسطیٰ اور یورپ میں جنگوں کے ساتھ ساتھ معاشی مشکلات کے معاملات نمایاں رہنے کی توقع کی جاتی ہے، میں شرکت کی غرض سے  ہندوستانی دارالحکومت نئی دہلی  پہنچے ہیں۔

بھارتی سفارتی ذرائع کے مطابق پوتن اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان جمعہ سے شروع ہونے والے دو روزہ اجلاس کے دوران بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی سے بات چیت کریں گے، جب کہ چینی صدر شی جن پنگ کی بھی اجلاس کے دوران مودی سے ملاقات متوقع ہے۔

روسی خبر رساں ایجنسی آر آئی اے نووستی کی نشر کردہ ویڈیو کے مطابق پوتن نئی دہلی کے پالم ائیر فورس ہوائی اڈے پر اترے جہاں ان کا استقبال بھارت کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور کرتی وردھن سنگھ نے کیا۔

چین کے صدر شی کے لیے یہ 2019 کے بعد بھارت کا پہلا دورہ ہوگا اور متنازعہ ہمالیائی سرحد پر بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں چھ سال قبل ہونے والی مہلک فوجی جھڑپ کے بعد حریف پڑوسیوں کے درمیان محتاط نرمی کی جانب سب سے بڑا قدم تصور کیا جا رہا ہے۔

جوہری  طاقت کے حامل  ان دو ایشیائی طاقتوں کے تعلقات حال ہی میں دوبارہ گرم جوشی کی جانب  آگے بڑھ  رہے ہیں اور  پروازوں، ویزوں اور اعلیٰ سطحی رابطوں کی بحالی بتدریج جاری ہے۔

نئی دہلی کی سڑکوں پر مسکراتے ہوئے مودی کے پوسٹرز رہنماؤں کو خوش آمدید کہنے کے لیے آویزاں ہیں، دارالحکومت میں سکیورٹی دستوں کی بھاری تعیناتی اور مرکزی اضلاع میں وسیع پیمانے پر ٹریفک پابندیاں ہیں۔ دہلی پولیس نے عوام سے صبر اور تعاون کی درخواست کی ہے۔

برکس 2009 میں ایک فورم  کی حیثیت سے قائم کیا گیا تھا جس میں بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مغربی طاقتوں کے زیرِ غلبہ اداروں میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل کرنے کی  خواہش کار فرما تھی۔

بعد ازاں اس میں وسعت آئی  اور  اب ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی  اسی اتحاد کا حصہ ہیں — یہ تینوں ممالک فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے  چھیڑی گئی ایران   جنگ کے بارے میں واضح طور پر مختلف موقف رکھتے ہیں۔

یہ مسعود پزشکیان کا بطور ایرانی صدر بھارت کا پہلا دورہ ہوگا اور اس میں مشرقِ وسطیٰ کا تنازعہ ایجنڈے میں نمایاں طور پر  شامل ہو گا۔

کیپیٹل اکنامکس کی شیلن شاہ نے امسال  مئی میں نئی دہلی میں برکس کے وزرائے خارجہ   کے  اجلاس میں  کسی مشترکہ بیان پر  اتفاق قائم نہ کر سکنے پرتوجہ مبذول کراتے ہوئے کہا ہے  کہ  'ایران جنگ  مذکورہ گروپ کے مابین ہم آہنگی کا سخت امتحان ثابت ہوگی'۔

ایران کی جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے توانائی بحران سے بھارت نے جزوی طور پر روس کی طرف رجوع کر کے نمٹا ہے، جو حالیہ برسوں میں اس کا ایک اہم اسٹریٹجک شراکت دار اور سب سے متنازع ایندھن فراہم کنندہ رہا ہے ۔

پوتن نے آخری بار دسمبر 2025 میں بھارت کا دورہ کیا تھا، لیکن اس ماہ وہ کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں بھی مودی سے ملاقات  کر چکے ہیں۔

 

دریافت کیجیے
اسرائیلی فورسز کے چھاپے کے دوران ایک فلسطینی شخص کو قتل کر  دیا گیا
ترکیہ: جنگی مجرم کی تکریم ناقابلِ قبول اور مذموم حرکت ہے
برطانیہ پر پابندی اور اس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے:اسرائیلی وزرا
حماس کا اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے شواہد چھپانے کا الزام
کینیڈا نے امریکی سامان پر 20 بلین ڈالر کے ٹیرف لگا دیئے
روس کے کیف پر میزائل اور ڈراون حملوں میں کم از کم دو افراد ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے
حوثیوں کے  حملے، سعودی عرب کی مذمت
امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان نے مشترکہ فوجی مشق شروع کر دیں
ترکیہ میں عجائب گھروں کی تعداد 2025 میں سالانہ 4.4 فیصد بڑھ کر 664 ہو گئی
اسرائیلی حملوں میں جنوبی لبنان میں دو شیرخوار بچوں سمیت کم از کم 11 افراد لقمہ اجل
غزہ میں قاتل اسرائیل کے حملوں میں مزید 5 فلسطینی شہید
بھارت: رہائشی عمارت منہدم، 5 افراد ہلاک
یمن: مسلّح افواج کے حوثیوں پر 13 فضائی حملے
ترکیہ اور 7 دیگر ممالک کی طرف سے اسرائیل کے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی منصوبوں کی مذمت
ہم پر پابندیاں لگانے سے امریکہ کو زیادہ نقصان ہوگا:ایران