ایک ایگزیکٹو رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کی ترکیہ کو F-35 لڑاکا طیارے کی ممکنہ فروخت پر سخت تنقید سے ناراض ہو گئے، جو دونوں اتحادی ممالک کے درمیان کشیدگی کی تازہ علامت ہے۔
رپورٹ میں وائٹ ہاؤس کے دو عہدیداروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ نیٹو سربراہی اجلاس کے لیے 7-8 جولائی کو ٹرمپ کے انقرہ جانے سے قبل، نیتن یاہو کی فاکس نیوز سے انٹرویو میں اس ممکنہ فروخت پر تنقید کرنے کے بعد ٹرمپ نے 'ناراضگی' کا اظہار کیا تھا۔
ایک عہدیدار کے مطابق ٹرمپ کا ماننا تھا کہ نیتن یاہو کو مجوزہ ہتھیاروں کے معاہدے میں عوامی طور پر مداخلت کرنے کا 'کوئی حق' حاصل نہیں تھا، جبکہ ایک اور نے کہا کہ ان تبصروں نے دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔
یہ رپورٹ اسی وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ نے حال ہی میں ایسے اشارے دیے کہ واشنگٹن ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعلقات بحال کرنے کے لیے تیار ہے، جس میں انقرہ کے روسی S-400 فضائی دفاعی نظام کی خریداری پر عائد پابندیاں اٹھانا اور F-35 طیاروں پر مذاکرات دوبارہ شروع کرناشامل ہیں۔
ٹرمپ-نیتن یاہو ملاقات شیڈولڈنہیں
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں ، حالانکہ اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم اس ہفتے واشنگٹن کا سفر کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو دو ہفتوں سے زیادہ عرصے سے ٹرمپ سے ملاقات کی درخواست کر رہے تھے، مگر وائٹ ہاؤس حکام نے کہا کہ کوئی ملاقات تصدیق شدہ نہیں تھی۔
ایک وائٹ ہاؤس اہلکار نے کہا 'ہمیں تاثر تھا کہ نتن یاہو کسی ملاقات کا رنگ ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔'
بعد ازاں نیتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیا کہ ان کا منصوبہ بند دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے جب تاخیر کی وجہ سے امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی تدفین ملتوی کر دی گئی۔
ایران اور ترکیہ پر اختلافات میں گہرا فرق
یہ تنازع اس وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور نیتن یاہو کی حکومت کے درمیان ایران پالیسی اور ترکی کے ساتھ دفاعی تعلقات معمول پر لانے کی امریکی کوششوں پر اختلافات بڑھ رہے ہیں۔
اسرائیلی حکام نےیہ استدلال کرتے ہوئے کہ یہ علاقائی فوجی توازن بدل سکتا ہے، کھل کر انقرہ کو کسی بھی F-35 فروخت کی مخالفت کی ہے، ، جبکہ ٹرمپ نے نیٹو کے اس حلیف کے ساتھ اسٹریٹجک دفاعی تعاون کی تعمیر نو کی حمایت کا اشارہ دیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی ذکر ہے کہ امریکی نائب صدر JD وینس کے حالیہ بیانات کے بعد یہ صورتِ حال سامنے آئی، جنھوں نے بدھ کو اشارہ دیا کہ اسرائیلی حکومت کے کچھ ارکان واشنگٹن کی تہران کے ساتھ سفارتی کوششوں کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ فوجی کارروائی کو بڑھایا جا سکے۔















