رائے
ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
ترکیہ کی اسرائیل کی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی کارروائی کی اپیل
ترک اسپیکر: اب ہم غزہ اور وسیع خطے میں جاری انسانی المیے اور فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی حکومت کی واضح انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انسانیت کے خلاف جرائم پر نظر بند نہیں رکھ سکتے۔"
ترکیہ کی اسرائیل کی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی کارروائی کی اپیل
نعمان قورتولموش نے پارلیمان کے صدور کی یورپی کانفرنس میں مالدووا کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ایگور گروسو سے ملاقات کی۔ / AA

ترک پارلیمانی اسپیکر نعمان قرتولمش نے  کہا ہے کہ دنیا  اسرائیل کی عالمی  قانون کی مسلسل خلاف ورزیوں کے سامنے خاموش نہیں  رہ سکی۔

روم میں اسپیکرانِ اسمبلی کے  اجلاس سے خطاب میں قرتلمش نے کہا: "ہم عدم  سزا  کو کسی  بھی صورت قبول نہیں کر سکتے۔"

انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے۔

انہوں نے کہا کہ قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام کا زوال غزہ میں برسوں پر محیط انسانی المیے اور نسل کشی میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔

قرتولمش نے کہا کہ"ہم اب غزہ اور وسیع خطے میں جاری انسانی المیے اور فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی حکومت کی واضح انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انسانیت کے خلاف جرائم پر نظر بند نہیں رکھ سکتے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ"یہ محض ایک سیاسی سوال نہیں بلکہ انسانیت کے مشترکہ ضمیر کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اسرائیلی جارحیت صرف غزہ تک محدود نہیں،قرتولمش  نے کہا: "مغربی کنارے میں تباہی، بے دخلی اور آبادکاروں کا تشدد جاری ہے، اور اسرائیل شام اور لبنان سمیت خطے کے ممالک کی ارضی سالمیت اور خود مختاری کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ پارلیمان  آگے آئیں اور غزہ کے عوام کی مصیبت کو فوری طور پر ختم کرنے اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں کو روکنے میں فعال کردار ادا کریں۔

آئیے غزہ کے لوگوں کی تکالیف کے فوری خاتمے اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں کو بند کرنے میں فعال کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا" ہمیں یقین ہے کہ قومی اسمبلیوں  کی مربوط کارروائی بین الاقوامی قانون کے نفاذ کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو مضبوط کر سکتی ہے اور مسلسل خلاف ورزیوں کا مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔"

بین الاقوامی نظام تنازعات کو روکنے میں ناکام رہا

قرتولمش کے مطابق موجودہ بین الاقوامی نظام نے خود کو تنازعات اور جنگوں کو روکنے کی صلاحیت سے عاجز ثابت کیا ہے، حتیٰ کہ یورپ کے قریبی علاقوں میں بھی۔

انہوں نے کہا"روس اور یوکرین کے درمیان جنگ، جو اب تقریباً پانچ سال سے جاری ہے، ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ بن چکی ہے جو محض دو قوموں کے درمیان تنازعہ رہنے کی بجائے پورے یورپ کو متاثر کر رہی ہے۔"

مزید برآں بین الاقوامی نظام غزہ میں تین سال سے زائد عرصے سے جاری اسرائیلی حکومت کی طرف سے ہونے والی نسل کشی کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام اپنی مشروعیت اور فعّالیت کے اعتبار سے گہری تحلیل کا شکار ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ایک زیادہ منصفانہ اور زیادہ قابلِ اعتبار بین الاقوامی نظام کی تعمیر کے لیے پارلیمنٹس کو نئے قواعد و ضوابط کی تشکیل، ان پر بحث اور ان کی حمایت میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔

"یہی وہ  مقام ہے جہاں پارلیمانی سفارتکاری خصوصی اہمیت اختیار کرتی ہے۔ یہ روایتی سفارتکاری کی تکمیل کر سکتی ہے، رابطوں کے راستے کھلے رکھ سکتی ہے اور جب ضرورت ہو تو نئے راستے پیدا کر سکتی ہے۔ اوراقوامِ متحدہ پر بحرانوں کے حل کا تمام بوجھ ڈالنا اور محض اقوامِ متحدہ کی اصلاحات پر انحصار کرنا نتائج نہیں دے گا۔"