مکہ معاہدے کی عالمی میڈیا میں وسیع  پیمانے پر بازگشت
دنیا
4 منٹ پڑھنے
مکہ معاہدے کی عالمی میڈیا میں وسیع پیمانے پر بازگشتترکی، سعودی عرب اور پاکستان، دفاعی محور پر ایک ہی میز پر آ گئے ہیں۔ تین ملکوں کے درمیان دستخط کردہ "مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ"، علاقائی ماحول کو مکمل طور پر تبدیل کر دے گا۔ رپورٹ
ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان نے مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔

جمہوریہ ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے دستخط شدہ مکہ معاہدہ اور اس کی تفصیلات  علاقائی اور عالمی ذرائع ابلاغ میں تفصیل سے زیرِ بحث آئیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے " مشرقِ وسطیٰ میں  حالات کشیدہ ہیں  تو سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے باہمی دفاعی  معاہدہ  کیا ہے" کے عنوان سے شائع خبر میں معاہدے کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہےکہ یہ "علاقائی تنازعے سے فکرمند سنی اور مسلمان امریکی حلیفوں کویکجا کرتا ہے"۔ خبر میں حکام کے بیانات اور ماہرین کی آراء بھی شامل کی گئیں۔

بی بی سی نے " سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان  کے درمیان ایک اہم  دفاعی معاہدہ" عنوان سے شائع رپورٹ میں معاہدے کی کچھ تفصیلات، حکام کے بیانات اور ماہرین کے خیالات  کو  جگہ دی گئی۔

CNN نے اسے سرِعنوان بنایا: "ایران کے ساتھ جنگ کے قریب ہونے کے دوران سعودی عرب تاریخی دفاعی معاہدے کے ذریعے فوجی  طاقت کو مسلم ممالک کی طرف موڑ رہا ہے"۔ CNN کی رپورٹ کے مطابق ریاض، ایران کے خلاف ممکنہ جنگ کے پیشِ نظر ملک کے دفاع کے لیے مسلم امہ  کی دنیا کی مضبوط عسکری قوتوں کی طرف رجوع کر رہا ہے۔ رپورٹ میں معاہدے کی چند تفصیلات اور حکام کے بیانات بھی درج کیے گئے۔

دی نیو یارک ٹائمز نے  "سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان  کامشترکہ دفاعی معاہدہ " کے عنوان سے اپنی رپورٹ میں تینوں ممالک کے حکام کے ایسے ہی بیانات کی طرف اشارہ کیا کہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، کسی خاص ملک کے خلاف نہیں اور دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔

دی اسوسیئٹیڈ پریس نے "سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے ایک اہم دفاعی معاہدہ  طے کیا ہے" کے عنوان سے شائع خبر میں اصرار کیا ہے  کہ یہ معاہدہ " جب سلامتی کے خدشات بڑھ رہے ہیں  تو اس دوران  یہ  تین علاقائی قوتوں کے مابین تعاون کو مضبوط کرتا ہے "۔

فنانشیل ٹائمز نے بھی "سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے مکہ میں دفاعی معاہدہ دستخط کیا" کے عنوان سے خبر شائع کرتے ہوئے تبصرہ کیا ہے کہ "تین اتحادی ممالک جنگوں اور بےچینی سے نمٹنے کے لیے علاقائی سیکیورٹی تعاون کو گہرا کرنا چاہتے ہیں"۔

امریکی وال سٹریٹ جنرل نے "سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان  کا دفاعی معاہدہ  " عنوان کے تحت  لکھا کہ تینوں ممالک نے خطے میں طویل چلتی افراتفری کے بعد سیکیورٹی قائم رکھنے کے لیے زیادہ قریبی عسکری روابط کی بنیاد رکھی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ معاہدہ ایسے وقت میں دستخط کیا گیا جب "امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف ممکنہ جنگ نے خطے کے لیے نئے خطرات پیدا کر دیے اور امریکی سیکیورٹی شیلڈ کے متعلق نئی  عدم یقینی  کی صورتحال سامنے آئی ہے"۔

مڈل ایسٹ آئی میں شائع  رپورٹ میں "ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان نے دفاعی معاہدہ کیا" میں بھی اس بات کی طرف توجہ دلوائی گئی کہ معاہدہ "دنیا کے تین سب سے بڑے مسلم ممالک کو پہلی بار ایک ہی سیکیورٹی   چھت تلے  متحد کرتا ہے"۔

الجزیرہ نے بھی معاہدے کی خبر کو "سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے، جب خطے میں ہنگامے جاری ہیں، دفاعی معاہدہ دستخط کیا" کے عنوان سے  پیش کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا  ہے کہ یہ دفاعی معاہدہ اس وقت میں سیکیورٹی تعاون کو گہرا کرے گا جب خطے میں بحران اور عسکری تناؤ بڑھ رہا ہے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی تفصیلات

یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کو نشانہ بنانے والا نہیں، بلکہ بوجھ کی تقسیم اور مشترکہ سیکیورٹی کے تصور کی بنیاد پر علاقائی اور عالمی امن، استحکام اور خوشحالی کے تحفظ کے لیے عہدوں کو مضبوط کرنے کی غرض سے دفاعی نوعیت کا تعاون ہے۔

یہ معاہدہ کسی بھی جارحانہ کارروائی کے خلاف اجتماعی روک تھام کو مضبوط بنانے کا مقصد رکھتا ہے اور توقع کرتا ہے کہ تینوں ریاستوں میں سے کسی ایک پر کسی بھی مسلح حملے کو سب کے خلاف حملہ سمجھا جائے گا۔

معاہدے میں تینوں ممالک کے آپس میں ایک دوسرے کی سیکیورٹی کی حمایت کے عہد کے علاوہ دفاعی صنعت میں تعاون اور عسکری آپریشنز میں ہم آہنگی کو فروغ دینے والا دفاعی نوعیت کا انتظام شامل ہے۔

 

دریافت کیجیے
ٹرمپ:ایران جوہری ہتھیار کے منصوبے سے تقریباً دستبردار ہو چکا ہے
ہزاروں کی تعداد میں 'کاکروچ' کارکنان نے مودی کے الیکشن چیف کے استعفی کا مطالبہ کیا
سرحدی بارودی سرنگ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے تو شمالی کوریا نے ایک بیلسٹک میزائل داغا
امریکی عہدیدار ایران کے خلاف اقدامات پر بات چیت کے لیے کیمپ ڈیوڈ میں یکجا ہوئے، ایکسیوس
جنوبی کوریا امریکہ میں 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا
ٹینیسی: زہریلے انجیکشنز کے باوجود  سزائے موت پانے والی خاتون بچ گئی: وکلا
امریکہ:200 سال بعد خاتون کو سزائے موت دینے کا فیصلہ
امریکہ:آر اے ایف بیس کے قریب مشتبہ منصوبے کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ ہے
شمالی کوریا کے 8ہزار فوجی روس میں ہیں:زیلنسکی
یوکرین پر روسی حملوں میں شدت،متعدد ہلاک و زخمی
شمالی بھارت میں شدید بارشوں اور سیلاب سے درجنوں افراد ہلاک
آئندہ 5 سالوں میں آذربائیجان میں ہر جگہ قابل تجدید توانائی ہوگی: علی ییف
ایران: 'مکّہ معاہدہ' اتحادِ مسلمین کے لئے اٹھایا گیا قدم ہے
ایران، شرائط پر قائم رہے گا: عراقچی
جمہوریہ کانگو میں طیارے کے حادثے میں 2 جرنیلوں سمیت 17 افراد ہلاک
ایتھنز میں دھماکے سے زمین بوس ہونے والی عمارت سے ایک عورت کی لاش برآمد، 5 لاپتہ
اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں فاسفورس گولہ بارود کا استعمال کرتی ہیں: لبنانی میڈیا
اندونیشیا میں 13 ستمبر کو غرقاب ہونے والی فیری میں سوار 52 افراد کی لاشیں بازیاب
نیپالی وزیر اعظم: نیپال کا سیلاب آب و ہوا کے بحران کے حوالے سے 'دنیا کے لیے ایک انتباہ ہے'
کیف، ترکیہ کی زیرِ میزبانی سربراہی اجلاس میں شرکت پر تیار ہے:زیلنسکی