یورپی یونین اور خلیجی تعاون کونسل نے آبنائے ہرمز پر کسی بھی ریاست کے خودمختاری یا کنٹرول کے دعوے کو "بین الاقوامی قانون کے خلاف" قرار دیا اوراس اہم آبی گزرگاہ سے بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لئے اجازت نامے یا کسی بھی قسم کے معاوضےکی مخالفت کی ہے۔
برسلز میں منعقدہ علاقائی سلامتی و تعاون کے اعلیٰ سطحی فورم کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں دونوں تنظیموں نے کہا ہے کہ "ریاستوں کے درمیان کوئی بھی دوطرفہ انتظام، مفاہمت یا معاہدہ کسی بین الاقوامی آبنائے میں سیر و سفر کے حق کو غیر قانونی طور پر منظم یا محدود نہیں کر سکتا۔"
یورپی یونین اور خلیجی تعاون کونسل نے اس بات پر زور دیا ہےکہ بین الاقوامی قانون تمام ریاستوں کے لیے حقِ سیر و سفر کی ضمانت دیتا ہے اور یہ حق "کسی بھی ریاست کے کنٹرول یا اجازت سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔"
یورپی یونین کی نمائندہ اعلیٰ برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی' کاجا کالاس' اور بحرین کے وزیر خارجہ 'عبداللطیف بن راشد الزیانی' نے علاقائی سلامتی اور تعاون کے اعلیٰ سطحی فورم کی مشترکہ صدارت کی۔
دونوں تنظیموں نے اقوام متحدہ کے بحری قانون کنونشن (UNCLOS) کے حوالے سے ایک بار پھر اس بات کی توثیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز سمیت سب سمندروں میں آزادانہ جہاز رانی کا حق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ "تمام ریاستوں کے جہاز ان حقوق سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور کوئی بھی ریاست ان حقوق کو معطل، محدود یا کسی بھی شرط سے مشروط نہیں کر سکتی۔"
سمندری جارحیت
یورپی یونین اور خلیجی تعاون کونسل نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور خطے کے بعض ممالک کی خودمختار سرزمین پر ایران کے حملوں کی "شدید ترین الفاظ میں" مذمت بھی کی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ "ان حملوں نے عام شہریوں اور سمندری عملے کی جانوں کو خطرے میں ڈالا، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2817 کی خلاف ورزی کی ہے لہٰذا انہیں کسی بھی صورت میں جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔"
ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ "فوری اور غیر مشروط طور پر تمام حملے اور سمندری آمدورفت میں ہر قسم کی مداخلت بند کرے" اور آبنائے ہرمز کو بغیر کسی شرط، ٹول ٹیکس یا سروس فیس کے ہر وقت کھلا رکھے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ "کسی بھی ریاست کی سلامتی پر حملہ ان تمام فریقوں کے لیے باعثِ تشویش ہے جن کی سلامتی اس اہم آبی گزرگاہ کے محفوظ رہنے سے وابستہ ہے۔"علاوہ ازیں متاثرہ ممالک اور سمندری عملے کے ساتھ "مکمل یکجہتی" کا اظہار بھی کیا گیا۔
یورپی یونین اور خلیجی تعاون کونسل نے تمام فریقوں سے "تحمل اور بردباری" کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت کے حق کے تحفظ کے لیے مکالمے اور سفارت کاری جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔












