رائے
ترکیہ
4 منٹ پڑھنے
ترکیہ، شعبہ توانائی میں، خودکفالت کی طرف رواں دواں
ضلع دیار بکر سے متوقع خوشخبری کے ساتھ ترکیہ،  شعبہ توانائی میں  خودکفالت کی طرف لے جانے والے  اہم موڑوں میں سے ایک کو کیسے عبور کرے گا
ترکیہ، شعبہ توانائی میں، خودکفالت کی طرف رواں دواں
Bakan Bayraktar, güneş enerjisinin Türkiye'deki toplam kapasitenin en büyük tekil kaynağı olacağını söyledi

آج ہم جس موضوع پر بات کریں گے وہ  ہے " ضلع دیار بکر سے متوقع خوشخبری کے ساتھ ترکیہ،  شعبہ توانائی میں  خودکفالت کی طرف لے جانے والے  اہم موڑوں میں سے ایک کو کیسے عبور کرے گا"۔ غیر روایتی طریقوں سے نکالی جانے والے شیل گیس اور شیل آئل نہ صرف اس خطے کو  بلکہ ایک بڑے تزویراتی منظرنامے کو بھی براہِ راست متاثر کریں گے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہاں سے حاصل ہونے والی تکنیکی مہارت اور تجربہ دیگر علاقوں میں بھی اس عمل کو تیز کر دے گا۔

جمہوریہ ترکیہ کی تاریخ کے اہم ترین ذخائر میں سے ایک کے لیے دیار بکر میں تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ وزیرِ توانائی آلپ ارسلان بائراکتار کا یہ بیان اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے کہ ’’دیار بکر کے جس علاقے میں ہم غیر روایتی طریقوں سے تیل تلاش کر رہے ہیں اس کے ساتھ  ہم  گابار کی صلاحیت میں  دوگنا بلکہ تین گنا اضافہ کر سکتے ہیں۔‘‘

بوغازئیچی یونیورسٹی کے استاد پروفیسر ڈاکٹر 'گورکان کومبار اوغلو' ان اوّلین ماہرین میں شامل ہیں جنہوں نے ترکیہ میں داداش فارمیشن اور دیار بکر میں موجود بڑے ذخائر کی جانب توجہ مبذول کرائی۔ ان کے مطابق نیا عمل انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

ترک اور امریکی کمپنیاں مل کر کام کریں گی

پروفیسر ڈاکٹر کومبار اوغلو پہلے ’’غیر روایتی طریقہ کار‘‘ کی وضاحت کرتے ہیں۔  اس تکنیک کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ’’ غیر روایتی طریقہ  ایسا طریقہ ہے جس میں  معیاری عمودی ڈرلنگ کے ذریعے خود بخود سطح پر نہ آنے والے  اور ناقابلِ نفوذ چٹانوں یا ریتلے ذخائر میں پھنسے ہوئے،  ہائیڈروکاربنز کو افقی ڈرلنگ اور ہائیڈرولک فریکچرنگ کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔‘‘

وہ اس عمل کے انتہائی جدید انجینئرنگ اور اعلیٰ ٹیکنالوجی کا متقاضی ہونے پر زور دیتے  اور گزشتہ سال ترکیہ پیٹرولیم کارپوریشن (TPAO) اور امریکی کمپنیوں کے درمیان طے پانے والے تعاون کے معاہدوں کی یاد دہانی کراتے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر کومبار اوغلو کہتے ہیں کہ" ان معاہدوں کے تحت خطے میں ترک اور امریکی کمپنیاں مل کر کام کریں گی۔دیار بکر میں غیر روایتی طریقوں سے شیل گیس اور شیل آئل نکالنا صرف توانائی کا معاملہ نہیں ہے۔ ہم ایک تزویراتی ٹیکنالوجی کی بات کر رہے ہیں۔ آخرکار ترک کمپنیاں بھی اپنے امریکی شراکت داروں سے یہ ٹیکنالوجی سیکھیں گی اور  ان کے علم اور تجربے میں اضافہ ہوگا۔ اس طرح آنے والے برسوں میں مختلف علاقوں کے لیے ضروری اقدامات ہم خود براہِ راست اٹھانے کے قابل ہو جائیں گے۔‘‘

 امریکہ اس طریقے سے ’’خالص برآمد کنندہ‘‘ بن گیا ہے

کومبار اوغلو یاد دلاتے ہیں کہ تلاش، پیداوار اور ذخیرہ کرنے کے اس طریقے  کے ذریعے امریکہ نے شیل گیس کے انتہائی بڑے ذخائر تک رسائی حاصل کی اور آج وہ ’’خالص برآمد کنندہ‘‘ بن چکا ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ داداش فارمیشن کہلانے والے علاقے میں اتنے بڑے ذخائر کی بات کی جا رہی ہے جو ترکیہ کی موجودہ کھپت کے حساب سے تقریباً 4 سے 5 سال کی قدرتی گیس اور 12 سے 13 سال کی خام تیل کی ضروریات پوری کرنے کے برابر ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ درست حکمتِ عملی کے ذریعے ترکیہ بھی اسی طرح کے عمل سے گزر سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہاں موجود ذخائر نہ صرف ملکی منڈی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دیں گے بلکہ ترکیہ کے توانائی کا مرکز بننے کے ہدف میں بھی کردار ادا کریں گے۔

’’انطالیہ میں متوقع  COP سربراہی کانفرنس میں یہ عمل بھی زیرِ بحث آئے گا‘‘

پروفیسر ڈاکٹر گورکان کومبار اوغلو اس موقع پر ایک اہم نکتے کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہیں اور وہ یہ کہ شیل آئل کی پیداوار روایتی طریقوں کے مقابلے میں زیادہ فضلہ پیدا کر سکتی ہے۔تاہم مناسب اقدامات، خصوصی صفائی اور ٹریٹمنٹ پلانٹوں جیسی تدابیر کے ذریعے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ وہ اپنی بات ان الفاظ میں مکمل کرتے ہیں:

’’انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فار انرجی اکنامکس (IAEE) انطالیہ میں ایک اہم تقریب کا انعقاد کرے گی جس میں اس موضوع کو بھی زیرِ بحث لایا جائےگا۔ نومبر میں متوقع  اس سربراہی کانفرنس میں 38 ممالک سے اہم اور ممتاز شخصیات شرکت کریں گی۔ توانائی کی منتقلی، تکنیکی ترقی، کاربن تجارت اور ای-موبیلیٹی جیسے موضوعات پر غور کیا جائے گا۔ ترکیہ اور اس راستے پر آگے بڑھنے والے دیگر ممالک کیا اقدامات کر سکتے ہیں، اس حوالے سے بھی ایک انتہائی مفید عمل پر کام کیا جائے  گا۔